بھارتی ناظم الامور گورو اہلو والہ کی دفتر خارجہ طلبی ، ایل او سی کے کیانی اور جوڑا سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) بھارتی ناظم الامور گورو اہلو والہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے 30 جون کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے کیانی اور جوڑا سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں 16 سالہ محمد توحید شہید جبکہ چار بیگناہ شہری شدید …

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) بھارتی ناظم الامور گورو اہلو والہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے 30 جون کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے کیانی اور جوڑا سیکٹرز میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں 16 سالہ محمد توحید شہید جبکہ چار بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامورکو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران1546 مرتبہ بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 14 بیگناہ شہر ی شہید اور 114 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یو این ایم او جی آئی پی) کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔