شہریوں کو کچن گارڈننگ کے تحت موسم سرما کی سبزیات کاشت کرنے کی سفارش

ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈاکٹر عدیل احمد نے شہریوں کو کچن گارڈننگ کے تحت موسم سرما کی سبزیات کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ موسم سرما کی سبزیاں ستمبر اکتوبرمیں کاشت اور فروری مارچ تک برداشت ہوتی رہتی ہیں جبکہ موسم سرما کی سبزیوں میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا، لہسن وغیرہ اورموسم گرما میں بھنڈی، کریلا، …

فیصل آباد۔ 07 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈاکٹر عدیل احمد نے شہریوں کو کچن گارڈننگ کے تحت موسم سرما کی سبزیات کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ موسم سرما کی سبزیاں ستمبر اکتوبرمیں کاشت اور فروری مارچ تک برداشت ہوتی رہتی ہیں جبکہ موسم سرما کی سبزیوں میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا، لہسن وغیرہ اورموسم گرما میں بھنڈی، کریلا، کھیرا، تربوز اور خربوز ہ وغیرہ کو زمین میں براہ راست کاشت کیا جاتا ہے نیزپھول گوبھی، بند گوبھی، بروکلی، پیاز اور سلاد موسم سرما میں بذریعہ پنیری کاشت ہونے والی سبزیاں ہیں تاہم سبزیوں کیلئے ایسی جگہ منتخب کی جانی چاہیے جہاں پودے دن میں کم از کم چھ گھنٹے سورج کی روشنی سے مستفید ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پورا کرنے کیلئے سبزیوں کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن پاکستان میں سبزیوں کی فی کس کھپت عالمی معیار سے بہت کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ انسانی خوراک میں سبزیوں کا استعمال 300 سے 350 گرام فی کس روزانہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ کچن گارڈننگ کے تحت اپنے کھیت یا گھر کے باغیچہ میں کاشت کی گئی سبزیاں تازہ، صحتمند، سستی، زرعی زہروں اور دیگر آلائشوں سے پاک ہوتی ہیں جن کے استعمال سے انسانی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر کچن گارڈننگ کا مطلب گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے تاہم خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان، گملوں، ٹوکریوں، پلاسٹک بیگ، لکڑی و پلاسٹک کے ڈبوں وغیرہ یا چھت پر اگا کر ہر وقت تازہ سبزی کے حصول کو ممکن بنا کر گھریلو ضرورت کو پورا کیا جا سکے کیونکہ اس طرح کاشت کی گئی سبزیاں آلودگی اور کیمیائی کھادوں و زہریلی ادویات کے استعمال سے پاک ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر آپ کے صحن یا باغیچے میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں زیادہ دیر تک سایہ رہتا ہو تو ایسی جگہ پر پتوں والی سبزیاں مثلاً دھنیا، پودینہ، پالک، سلاد وغیرہ کاشت کیجئے مگرکاشت کے لیے منتخب رقبہ کو ناپ لیں تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ رقبہ کے لیے کتنی کھاد اور بیج کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مرلہ زمین272مربع فٹ کے برابر ہوتی ہے یعنی ایک مرلہ زمین کی لمبائی اور چوڑائی کا حاصل ضرب 272فٹ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ زمین ناپنے کے بعد اپنی ضرورت، پسند اور موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سبزیوں کیلئے رقبہ مختص کر لیں کیونکہ بعض سبزیاں مثلاً دھنیا، پودینہ کم رقبے سے بھی گھر کی ضرورت پوری کر دیتی ہیں جبکہ دیگر سبزیوں کو زیادہ رقبے کی ضرورت ہوتی ہے۔