بھارتی وزیراعظم کو مظفر آباد میںکشمیریوں سے مخاطب ہونے کی دعوت دیتا ہوں، وہ وزیراعظم عمران خان کو سرینگرجانے دیں، کشمیری عوام کا ریفرنڈم ہو جائے گا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے جس نئے سیاسی نقشے کا اجراء کیا ہے وہ قوم کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، تمام حکومتی اور اپوزیشن قیادت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکجا ہے۔ بدھ کو یوم استحصال کے حوالہ سے منعقدہ واک کے اختتام پر وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ …

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے جس نئے سیاسی نقشے کا اجراء کیا ہے وہ قوم کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، تمام حکومتی اور اپوزیشن قیادت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکجا ہے۔ بدھ کو یوم استحصال کے حوالہ سے منعقدہ واک کے اختتام پر وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ واضح کرتا ہے کہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے اس حوالہ سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں ہیں جن سے بھارت چاہے بھی تو فرار حاصل نہیں کر سکتا، آج آپ نے دیکھا کہ تمام حکومتی اور اپوزیشن قیادت مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے یکجا ہے، ہندوستان کو آج پہلا پیغام یہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے جبر و استبداد اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست ہو گئے ہوتے تو آج بھارت کو کرفیو کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ انہوںنے کہا کہ اگر بھارت نے یہ اقدامات کشمیریوں کی بہتری کیلئے اٹھائے ہوتے تو آج 5 اگست کو پہلی سالگرہ پر وہاں جشن کا سماں ہوتا، مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہوتیں، 5 اگست سنگینوں کے سائے میں نہ منایا جاتا۔ ہندوستان کے5 اگست کے اقدامات کو پوری قوم یکسر مسترد کر چکی ہے، وہ سیاسی طور پر، اخلاقی طور پر اور سکیورٹی کے اعتبار سے ناکام ہو چکے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کی نفرت انگیز پالیسیوں کے خلاف ہندوستان کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جو کہہ رہی ہیں کہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرو، وہ کشمیریوں کو آپ سے مزید دور کر رہی ہیں اور آخری پیغام میرا وزیراعظم ہندوستان کیلئے ہے کہ اگر آپ کو اپنی پالیسیوں پر اعتماد ہے تو میں بطور وزیر خارجہ پاکستان آپ کو دعوت دے رہا ہوں کہ آئیے اور مظفر آباد میں کشمیریوں سے مخاطب ہو جائیں، پتہ چل جائے گا کہ آپ کو کس طرح کا استقبال ملتا ہے اور اگر آپ میں حوصلہ ہے اور آپ کو اپنی پالیسیوں پر اعتبار ہے تو سرینگر وزیراعظم عمران خان کو جانے دیجئے اور دیکھ لیجئے کہ انہیں کس طرح کا استقبال ملتا ہے، کشمیری عوام کا ریفرنڈم آج ہی ہو جائے گا اگر ہمت ہے تو قبول کرو اور اگر ہمت نہیں ہے تو پھر نظرثانی کرو۔