بھارت۔افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسند پالیسی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار

اسلام آباد ۔29نومبر (اے پی پی):بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےجبکہ عالمی سطح پر ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے اس گٹھ جوڑ کے تشویشناک اثرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں افغان سرزمین سے مختلف ممالک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات عالمی امن کے لیے بڑے خطرے …

اسلام آباد ۔29نومبر (اے پی پی):بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےجبکہ عالمی سطح پر ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے اس گٹھ جوڑ کے تشویشناک اثرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت کی سرپرستی میں افغان سرزمین سے مختلف ممالک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات عالمی امن کے لیے بڑے خطرے کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔گزشتہ دنوں عالمی سطح پر افغانستان کا کردار مختلف دہشتگردانہ واقعات میں واضح طور پر سامنے آیاجن میں پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ شامل ہیں۔

پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔یورپی یونین، ڈنمارک اور کئی دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے جو علاقائی سلامتی کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔اس کے باوجود بھارت افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔

اکتوبر 2025 میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت کے دوران متعدد معاہدے طے پائےجبکہ اسی وقت پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے بلااشتعال کارروائی بھی سامنے آئی۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے بھی تعینات کریں گے۔تجزیاتی حلقوں کے مطابق بھارت افغانستان کو خیرسگالی کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔

افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے جنوبی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال مزید غیر مستحکم ہو رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے بڑھتی تشویش میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت۔افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسندانہ پالیسیوں کے امتزاج نے خطے کے امن اور عالمی سلامتی کے لیے نئے اور شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

مزید خبریں