بھارت دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے 5 جون 2020ءکے گمراہ کن ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ریمارکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیری عوام کے خلاف اس کے جاری جرائم سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔ پیر …

اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے 5 جون 2020ءکے گمراہ کن ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ریمارکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیری عوام کے خلاف اس کے جاری جرائم سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔ پیر کو ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان، حقائق کو مکمل طور پر مسخ کرنے کی بنیاد پر بدنیتی پر مبنی بھارتی دعووں کو مسترد کرتا ہے۔حتی کہ وزیر اعظم عمران خان کے ریمارکس کو مکمل طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے ، جس میں سرحد پار سے ہمارے عوام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی بھی شامل ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے ہزاروں شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ہمارے ہزاروں قانون نافذ کرنے والے بہادر جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کی لعنت کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کی قربانیوں اور شراکت کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے۔سینئر بھارتی حکام اور دیگر مبصرین اکثر پاکستان کے حصوں کو غیر مستحکم کرنے اور دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف ریاستی پالیسی کے طور پراستعمال کرنے کو فخر یہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ آج بھارت کی اقلیتوں کے خلاف ہندوتوا پر مبنی دہشت گردی ، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی ، اور اپنے پڑوسیوں کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گردی کا بطور آلہ کا استعمال پوری طرح سے بے نقاب ہو گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بھارت ہی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ عالمی برادری بھارتی پروپیگنڈہ سے گمراہ نہیں ہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں جاری امن عمل کے لئے سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی شراکت داروں نے تسلیم کیا ہے۔ پاکستان نے ، افغان امن عمل کے آغاز سے ہی عالمی برادری کو خطے میں شرپسندوں کے کردار سے آگاہ کیا تھا ، جو افغانستان میں امن ، استحکام اور خوشحالی کی واپسی نہیں دیکھنا چاہتے اور قیام۔امن میں پیشرفت میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔