بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے باز رہے، پانی روکنے کی کوشش اعلانِ جنگ تصور ہوگی،جام خان شورو
بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے باز رہے، پانی روکنے کی کوشش اعلانِ جنگ تصور ہوگی،جام خان شورو

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 04 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیرِ آبپاشی سندہ جام خان شورو نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جارحیت تصور کیا جائے گا، جس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی اور پانی سے متعلق تعاون معطل کرکے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم پاکستانی قوم نے اپنے عزم اور ثابت قدمی سے ان سازشوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے اور سندھ کی شناخت بھی اسی دریا سے وابستہ ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دریا کے کنارے آباد لوگوں کا اس کے پانی پر پہلا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کا احترام کرتے ہوئے بھارت کو مشرقی دریاؤں کے استعمال کی اجازت دی، تاہم بھارت نے بڑے پیمانے پر پانی کا رخ موڑ کر ماحولیاتی نقصان پہنچایا، جس کے باعث انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی آمد کم ہوئی اور زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی دستیابی پہلے ہی کم ہو چکی ہے، ایسے میں پاکستان کے حصے کے پانی پر کسی بھی قسم کی مداخلت سندھ سمیت پورے ملک کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت ضروری ہائیڈروولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی بند کئے جانے سے دریاؤں کے بہاؤ کی نگرانی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین بھی سرحد پار دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔ جام خان شورو نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی مداخلت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا اور پاکستان اپنے آبی حقوق، قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔a








