اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ نے کہا ہےکہ بھارت میں تقریباً پچاس فیصد ارکان پارلیمان کو قتل اور آبروریزی جیسے مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے جبکہ بھارت میں جمہوری اقدار مسلسل زوال پذیر ہیں ، سنگاپور کے 70 سالہ وزیراعظم کمیٹی آف پریویلیجز کی رپورٹ پر بحث میں اظہار خیال کر رہے تھے جس میں وہاں کے حزب اختلاف کے 5 بڑے رہنماؤں پر 'جھوٹ …
بھارت میں تقریباً پچاس فیصد ارکان پارلیمان کو قتل اور آبروریزی جیسے مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے، بھارت میں جمہوری اقدار مسلسل زوال پذیر ہیں،سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لونگ نے کہا ہےکہ بھارت میں تقریباً پچاس فیصد ارکان پارلیمان کو قتل اور آبروریزی جیسے مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے جبکہ بھارت میں جمہوری اقدار مسلسل زوال پذیر ہیں ، سنگاپور کے 70 سالہ وزیراعظم کمیٹی آف پریویلیجز کی رپورٹ پر بحث میں اظہار خیال کر رہے تھے جس میں وہاں کے حزب اختلاف کے 5 بڑے رہنماؤں پر ‘جھوٹ بولنے’ کا الزام لگایا گیا تھا۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق لی سین لونگ نے بعض میڈیا رپورٹس کے حوالے سے کہا کہ ’نہرو کے انڈیا میں تقریباً 50 فیصد ممبران پارلیمنٹ کے خلاف قتل اور ریپ کے الزامات زیر التواہیں، لی نے یہ بھی کہا کہ بہت سے ممالک کے سیاسی نظام ایسے ہو چکے ہیں کہ ان کے بانیوں کے لیے انھیں پہچاننا بھی مشکل ہو جائے گا۔ایک بھارتی روزنامہ فنانشل ایکسپریس کی گذشتہ سال شائع رپورٹ کے مطابق بھارت کی قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے 363 اراکین کو ان کے خلاف درج مقدمات کے باعث انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے۔
ڈیموکریٹک ریفارم کی ایسوسی ایشن (اے ڈی آر) کی طرف سے اس میں 2485 امیدواروں کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان قانون ساز اراکین کو عوامی نمائندگی کے بھارتی ایکٹ 1951ء کی دفعہ (2) (1) -8 اور (3) کے تحت قرار دیئے گئے جرائم پر عدالت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا سامنا ہے۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 363 اراکین میں 296 کا تعلق قانون ساز اسمبلیوں اور 67 کا تعلق پارلیمنٹ سے ہے۔ جن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں کو فوجداری الزامات کا سامنا ہے ان میں بی جے پی سرفہرست ہے جس کے 63 اراکین کو فوجداری الزامات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اراکین کو جن فوجداری الزامات کا سامنا ہے۔ ان کی ذیلی دفعات میں قتل، زیادتی، ڈکیتی، راہزنی، اغوائ، خواتین کے خلاف جرائم، رشوت ستانی، کرپشن، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔ مقدمات کی اس فہرست میں کانگریس دوسرے نمبر پر ہے جس کے 47 اراکین پر فوجداری الزامات ہیں اور اے آئی ٹی سی تیسرے نمبر پر ہے جس کے 25 اراکین فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2019ء میں لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات میں 67 ایسے اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا جنہیں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کا مجرم قرار دیا گیا۔ اس کے بعد 2020ء میں بہار کی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جن میں 54 اراکین قانون ساز اسمبلی کو الزامات کا سامنا ہے۔
حیران کن بات ہے کہ 4 یونین وزراء اور 35 ریاستی وزرائے مملکت کو فوجداری الزامات کا مجرم قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چار یونین وزراء میں سنجیو کار بلیان، ستیا پل سنگھ باگھل، کیلاش چوہدری اور اشوینی کمار چائو بے شامل ہیں جن کا تعلق بی جے پی سے ہے اور انہیں اغوا، ڈکیتی اور قاتلانہ حملوں جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ بھارتی اراکین پارلیمنٹ کو جن فوجداری مقدمات کا سامنا ہے وہ اوسطاً 7 سال سے زیر التواء ہیں جن بھارتی اراکین قانون ساز اسمبلیوں کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے وہ اوسطاً 6 سال سے زیر التواء ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ لوک سبھا کے 24 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف کل 43 فوجداری مقدمات ہیں جو کہ 10 سال سے اس سے زائد عرصہ سے زیر التواء ہیں اور قانون ساز اسمبلیوں کے 111 موجودہ اراکین کے خلاف کل 315 فوجداری مقدمات 10 سال یا اس سے بھی زائد عرصہ سے زیر التواء ہیں۔ بھارتی روزنامہ انسائیڈر کی ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں کو پہلے ہی حکم جاری کر رکھا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کے مجرمانہ ضمنی گذشتہ حالات و واقعات اور ان کے کوائف وغیرہ ویب سائیٹوں پر اپ لوڈ کریں۔
سپریم کورٹ کے ججز آر ایف نریمن اور ایس روندرابھت نے تمام سیاسی جماعتوں کو حکم دیا ہے کہ ان کیلئے اچھی شہرت کے حامل امیدواروں کی بجائے مجرمانہ ماضی کے حامل امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا جواز پیش کرنا لازمی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم لی کے بیان پر انڈیا کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ سنگاپور کے وزیراعظم نے نہرو کی مثال دی کہ ملک میں جمہوریت کیسے چلنی چاہیے جبکہ ہمارے وزیر اعظم پارلیمان کے اندر اور باہر ان کی توہین کرتے رہتے ہیں۔
کیرالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمان اور سابق وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ ششی تھرور نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’یہ ناانصافی ہے کہ سنگاپور جیسے دوست ملک کے ہائی کمشنر کو ان کی پارلیمنٹ میں ان کے وزیر اعظم کے بیان پر طلب کیا جائے۔ کبھی کبھی تھوڑا کم حساس ہونا سیکھنا چاہیے۔‘ششی تھرور نے کہا کہ انڈیا کو اس معاملے میں ایک بیان جاری کرنا چاہیے تھا کہ صرف یہ کہتے کہ ’ہم نے وزیر اعظم کے بیان کو بہت سنجیدگی سے سنا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا نے کہا کہ جب دوسرے ممالک سے اس طرح کے ردعمل آتے ہیں، جیسا کہ سنگاپور میں ہوا، تو اس پر غور کر کے خود احتسابی ہونی چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہ اس طرح کیوں بول رہا ہے۔








