ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی قومی و بین الاقوامی میڈیا کو بریفنگ

راولپنڈی ۔ 22 فروری (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آخری سانس اور گولی تک ملک کا دفاع کریں گے، جنگ کی خواہش نہیں تاہم کسی جارحیت کو سرپرائز نہیں سمجھیں گے، ہم آپ کو سرپرائز دیں گے، امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے آپ کو پیغام مل گیا ہوگا، 70 سال آپ کو دیکھا، آپ کیلئے ہی صلاحیتیں …

راولپنڈی ۔ 22 فروری (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آخری سانس اور گولی تک ملک کا دفاع کریں گے، جنگ کی خواہش نہیں تاہم کسی جارحیت کو سرپرائز نہیں سمجھیں گے، ہم آپ کو سرپرائز دیں گے، امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے آپ کو پیغام مل گیا ہوگا، 70 سال آپ کو دیکھا، آپ کیلئے ہی صلاحیتیں حاصل کیں، بھارت جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے، دفاع کا حق رکھتے ہیں، بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیں گے،جب بھی پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہونے جارہا ہوتا ہے تو بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں ایسا "سٹیج ایکشن” ہوجاتا ہے ،اب بھی ایسے 8 اہم ایونٹس ہیں جو پاکستان سے متعلق ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ پیش آگیا ،جنرل (ر) اسد درانی نے فوجی قوانین کی خلاف ورزی کی، اسد درانی کی پنشن روک دی تھی، دیگر سہولتیں بھی ختم کر دیں، اسد درانی کا نام ای سی ایل پر ہے، وزارت داخلہ سے بات کریں گے،پاک فوج کے 2 سینئر افسر زیر حراست ہیں، 2 سینئر افسران کیخلاف کارروائی جاری ہے، کورٹ مارشل مکمل ہونے پر آگاہ کیا جائے گا، دونوں افسران کا کورٹ مارشل کیا جائے گا، ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ایران کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ مل کر سرحد کی صورتحال بہتر کریں گے، مسئلہ کشمیر خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے، آئیے اسے حل کریں، ہمارے وزیراعظم نے بھارت کو وہ پیش کش کی جو پہلے کبھی نہیں کی گئی، فوج اور عوام نے خون کے سمندر سے گزر کر ملک کو جلا بخشی۔ وہ جمعہ کو آئی ایس پی آر میں قومی و بین الاقوامی میڈیا کو پلوامہ حملے کے بعد بھارتی الزامات اور دیگر پہلوﺅں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کشمیری نوجوان نے بھارتی فورسز کو نشانہ بنایا، پاکستان نے اس بار جواب دینے کیلئے تھوڑا وقت لیا، پاکستان نے اپنے طور پر واقعہ کی تحقیقات کیں، تحقیق کے بعد وزیراعظم نے پلوامہ واقعہ پر جواب دیا۔ انہوں نے کہا بھارت پاکستان کی آزادی کو آج تک تسلیم نہیں کرسکا، اصل دہشتگردی بھارت نے کی جب مکتی باہنی کے ذریعے حالات بگاڑے، مکتی باہنی کے کردار کو خود بھارتی وزیراعظم نے تسلیم کیا، بھارت نے ہمیشہ پاکستان کیخلاف سازشیں، دہشتگردی کی، 65 کی جنگ کے ہمارے ملک پر اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی ایونٹ ہو بھارت میں ایسا واقعہ ہو جاتا ہے، بھارت نے اپنی ناکامیوں کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دی، ملک میں 8 اہم ایونٹس ہو رہے تھے، سعودی ولی عہد دورہ پاکستان پر تھے، کانفرنس ہو رہی تھی، پاکستان میں پی ایس ایل میچز ہونے ہیں، کرتارپور راہداری کی ڈویلپمنٹ پر ایک میٹنگ ہونی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کلبھوشن کی صورت میں بھارتی دہشتگردی کا ثبوت موجود ہے، کلبھوشن کیس کی سماعت کے وقت ایسا واقعہ ہوا، مقامی گاڑی کے ذریعے پلوامہ میں حملہ کیا گیا، پلوامہ کا حملہ آور بھی مقامی کشمیری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14فروری کو پلوامہ میں کشمیری نوجوان نے قابض فورسز کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزامات کی بارش ہوگئی، بغیر سوچے اور تحقیق کے الزامات لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ فروری اور مارچ میں پاکستان میں 8 اہم ایونٹس ہورہے تھے، سعودی ولی عہد کا دورہ، اقوام متحدہ میں ٹیرر لسٹ پر بات، افغان امن عمل، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پر بات چیت، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس، ایف اے ٹی ایف کی سٹنگ، کرتارپور بارڈر پر دونوں ملکوں میں مذاکرات اور پاکستان سپر لیگ کے میچز تھے۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کا پاکستان کو نقصان ہے، بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کررہے تھے، مت بھولیں پاکستان میں ہونے والے ان آٹھ ایونٹس کے علاوہ بھارت میں الیکشن بھی ہونے والے ہیں جبکہ کشمیر میں اس وقت جدوجہد عروج پر ہے جو بھارت کے قابو سے باہر ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز پر جس کشمیری نے حملہ کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا اور یہ واقعہ ایل او سی سے میلوں دور ہوا، دھماکا خیز مواد پاکستان سے نہیں گیا اور گاڑی پاکستان کی نہیں تھی جب کہ بھارت کی جانب سے جو ویڈیو ریلیز کی گئی اس کا تجزیہ بھی بہت سے اشارے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کا ایک ڈیفنس ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایل او سی کو کوئی کراس کرے، ایسا علاقہ جہاں فورسز کی تعداد وہاں کے مقامی افراد کی تعداد سے زیادہ ہے، اگر وہاں سے دراندازی ہوجائے تو پھر اپنی فورسز سے پوچھیں، 70 سال سے کیسے بیٹھے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کلبھوشن کی صورت میں بھارتی دہشت گردی کا ثبوت موجود ہے، ہم خطے میں امن کی کوششیں کررہے ہیں اور پاکستان میں آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پنپ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس کیسے ہتھیار ہیں، فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ آپ کو عوام کا اعتماد حاصل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا، آپ ہمیں حیران نہیں کرسکتے بلکہ ہم آپ کو حیران کریں گے، امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے آپ کو پیغام مل گیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم 21ویں صدی میں ہیں، ہمارے پاس بہت سے چیلنجز ہیں، عوام کو تعلیم صحت اور جینے کا حق حاصل ہے، بھارت آنے والی نسلوں سے اپنی بے وقوفی کے ذریعے یہ حق نہ چھینے، پاکستان اور پاکستانیت سے دشمنی کریں انسانیت سے مت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور دو جمہوری ملکوں میں جنگ نہیں ہوتی، اگر آپ جمہوریت ہیں تو اس کے اصولوں کو بھی سامنے رکھیں۔میجر جنرل آصف غفور نے سوال کیا کہ پلوامہ کے بعد کشمیریوں اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا، آپ امن اور ترقی چاہتے ہیں تو کلبھوشنوں کو ہمارے ملک میں مت بھیجیں، خطے کے امن کو تباہ نہ کریں اور ترقی کے مواقع کو مت گنوائیں، اگر ہماری یہ سوچ ہے کہ خطے نے مل کر ترقی کرنا ہے تو ہم جنگ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آزاد ہونے کی حقیقت بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا، 1947 میں بھارت نے کشمیر پر حملہ کیا اور 72 سال سے اُن کا کشمیر میں ظلم و ستم جاری ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 1965 میں ایل او سی کی کشیدگی کو بھارت انٹرنیشنل بارڈر پر لے آیا، اس وقت ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا اس جنگ کے اثرات ہمارے ملک پر پڑے، 1971 میں سازش سے ہمیں دولخت کیا گیا، بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں حالات خراب کرائے ہم اس سانحے سے بھی سنبھل گئے،1971سے 84 کا ایسا وقت تھا جس میں ہماری مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا، ہم نے دوبارہ استحکام کی طرف جانا شروع کیا لیکن سیاچن کا واقعہ ہوا، ایسا علاقہ جہاں پاک فوج کی موجودگی نہیں تھی وہاں آئے ہمارے علاقے پر قبضہ کیا، اس وقت سے آج تک دنیا کے بلند ترین محاذ پر ہماری فوج ڈٹی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ففتھ جنریشن جنگ کے خطرے میں ہیں اور اس کا ہدف نوجوان نسل ہے، پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو میں تھوڑا سا حوالہ دے دوں کہ نوجوان نسل سمجھ لیں کہ کیسے بات چیت چل رہی ہے۔

Leave a Reply