بھارت کی جانب سے آبی معلومات روکنا اور پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز
بھارت کی جانب سے آبی معلومات روکنا اور پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی، ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات کے مطابق معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے۔
منگل کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیر اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اس اہم موضوع پر اظہار خیال کرنا ان کے لیے باعث مسرت ہے اور وہ اپنی گفتگو کا آغاز ایک ایسی حقیقت سے کرنا چاہتی ہیں جس سے سب واقف ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سفارتکاری کی حقیقی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک انتہائی مشکل مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور 60 برس سے زیادہ عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق معاہدے تنازعات کو روکنے کے لیے بنائے جاتے ہیں جبکہ مستقل انڈس کمیشن عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور قابل قدر ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مرحلہ وار نظام مقرر کیا گیا ہے۔لاری واٹکنز نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کئے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر کشیدگی جنم لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت رابطوں کے تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل قرار دیا ہے تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کی معطلی کا اعلان کرکے اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات کے مطابق معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے۔








