بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر ماہرین کا اظہارِ تشویش، پاکستان میں غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہونے کا انتباہ
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر ماہرین کا اظہارِ تشویش، پاکستان میں غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہونے کا انتباہ
پشاور۔ 30 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے ماہرینِ معیشت، آبی وسائل اور خارجہ پالیسی کے ماہرین نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کے دریائی پانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے زراعت، غذائی تحفظ، بجلی کی پیداوار، مویشی پالنے، سیاحت اور مجموعی قومی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین نے کہا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے یا اس پر عمل درآمد روکنے کی کسی بھی کوشش سے سندھ طاس کے آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے روزگار اور معاشی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً ورلڈ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنے قانونی اور سفارتی کردار کو مؤثر انداز میں ادا کرے۔سن 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا رہا تاہم بھارت نے گزشتہ برس اپریل میں اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔پاکستان کے سابق سفیر منظور الحق نے کہا کہ پانی پاکستان کی معیشت اور بقا کی شہ رگ ہے، اس لیے بھارت کو سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف دوطرفہ معاہدے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 66 برس سے جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا ہے، لہٰذا اس پر یکطرفہ قدغن لگانا بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے خطرناک مثال قائم کرے گا۔منظور الحق کے مطابق پاکستان کی تقریباً 80 فیصد آبپاشی ضروریات مغربی دریاؤں سے پوری ہوتی ہیں جبکہ ملک کی 80 فیصد زیرِ کاشت زمین اور 90 فیصد سیراب زرعی رقبہ اسی نظام پر انحصار کرتا ہے۔ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ سے گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جس سے غذائی قلت، زرعی برآمدات میں کمی، مہنگائی اور دیہی غربت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً 23 فیصد ہے جبکہ 38 فیصد افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے آبپاشی کے پانی میں طویل کمی کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوں گے۔
جامعہ پشاور کے شعبۂ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبے کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق اگر آبپاشی متاثر ہوئی تو پنجاب، جو سالانہ دو کروڑ میٹرک ٹن سے زائد گندم پیدا کرتا ہے، شدید غذائی چیلنجز سے دوچار ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت سے چارے کی پیداوار کم ہوگی، جس کے نتیجے میں مویشی پالنے کا شعبہ، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور لاکھوں دیہی خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوگی۔ڈاکٹر ذوالفقار ملک نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی بروقت فراہمی متاثر ہوئی تو سیلاب کی پیش گوئی، آبی ذخائر کے انتظام اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت بھی کمزور ہو جائے گی، جس سے لاکھوں افراد قدرتی آفات کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ سطحی پانی کی کمی کے باعث زیرزمین پانی کے بے دریغ استعمال سے آبی ذخائر تیزی سے ختم ہوں گے، زمین میں سیم و تھور بڑھے گا اور خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں ماحولیاتی مسائل شدت اختیار کریں گے۔
ماہرین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان پہلے ہی درجہ حرارت میں اضافے، بے ترتیب بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور طویل خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، لہٰذا آبی وسائل کا مؤثر انتظام پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔انہوں نے مہمند، داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کی تعمیر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، پن بجلی کی پیداوار اور موسمی تغیرات سے نمٹنے کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ماہرین نے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر تیز کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے کم لاگت میں پانی کی دستیابی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔جامعہ پشاور کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کا اہم ذریعہ رہا ہے، مگر بھارتی حکومت نے اسے یکطرفہ طور پر معطل کر کے ورلڈ بینک کی ضمانت اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس کا نظام 24 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی، زراعت، پینے کے پانی، صنعت اور توانائی کی ضروریات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے پانی کا تحفظ اب غذائی تحفظ، معاشی ترقی اور علاقائی امن سے براہِ راست وابستہ ہو چکا ہے۔ڈاکٹر اعجاز خان نے خبردار کیا کہ آبپاشی کے پانی میں مسلسل کمی سے خواتین اور بچوں سمیت کمزور طبقات میں غذائی قلت اور صحت کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے ورلڈ بینک پر زور دیا کہ وہ معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اس تنازع کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی دریاؤں سے متعلق تنازعات کے اثرات جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنا لیا گیا تو دنیا کے دیگر مشترکہ آبی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو جدید آبپاشی نظام، نئے آبی ذخائر، واٹر شیڈ مینجمنٹ، زیرزمین پانی کی بحالی، مؤثر آبی تقسیم اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ حکمت عملیوں پر مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں بڑھتے ہوئے آبی دباؤ کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ماہرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام تنازعات بالآخر مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی پاسداری کے ذریعے حل ہوں گے کیونکہ مشترکہ آبی وسائل کا پائیدار انتظام ہی علاقائی امن، غذائی تحفظ، معاشی ترقی اور کروڑوں انسانوں کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔









