بیرونی اور علاقائی چیلنجوں کے باوجود ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آرہی ہے،مشیر وزیر خزانہ

وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ بیرونی اور علاقائی چیلنجوں کے باوجود ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آرہی ہے۔

اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ بیرونی اور علاقائی چیلنجوں کے باوجود ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آرہی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فروری میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا توازن 427ملین ڈالر فاضل رہا ہے جو مارچ 2025کے بعد بلند ترین سطح ہے ، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں فروری کے دوران ماہانہ بنیاد پر24فیصد اضافہ ہوا، ترسیلات زر میں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں سالانہ بنیاد پر11فیصد جبکہ فروری میں ماہانہ بنیاد پر5فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فروری میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 19فیصد اضافہ ہوا۔ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں آٹی ٹی برآمدات کا حجم 3ارب ڈالر ریکارڈکیا گیا جو گزشتہ مالی سال کےاسی عرصہ کے مقابلے میں 20فیصد زیادہ ہے، زرمبادلہ کے ملکی ذخائر 4سال کی بلند ترین سطح پر ہیں جس سے درآمدی کور میں اضافہ ہوا،بڑی صنعتوں کی پیداوار میں جنوری کے دوران 12فیصد اضافہ ہوا، مالی سال کے پہلے سات ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداور میں تقریباً6فیصد اضافہ ہوا۔

خرم شہزاد نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں بتدریج کمی آرہی ہے، ڈبلیو ٹی آئی 102 ڈالر اور برینٹ 95 ڈالر کے قریب ہے جس سے خام تیل کی فی بیرل قیمت 60 ڈالر کے قریب آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مارچ اور اپریل کےلئے توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنایا ہے، کفایت شعاری کےلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے انتظامات موجود ہیں ۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ بیرونی اورعلاقائی چیلنجوں کے باوجودکلی معیشت کے بنیادی اشاریوں میں بہتری آرہی ہے۔