بیرونی شعبہ میں استحکام اوربڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ سے پائیدار اقتصادی نمو کو تقویت ملےگی، خرم شہزاد

وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ بیرونی شعبے میں استحکام سے ملکی معیشت کی بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہونے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونے اور پائیدار اقتصادی نمو کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ بیرونی شعبے میں استحکام سے ملکی معیشت کی بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہونے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونے اور پائیدار اقتصادی نمو کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے،بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ سے پائیدار اقتصادی نمو کو تقویت ملےگی۔بدھ کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے بیان میں مشیرخزانہ نے کہاکہ جاری کھاتوں کے خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اگست 2026 میں جاری کھاتوں کا خسارہ 98 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 70 فیصد جبکہ جولائی 2026 کے مقابلے میں 78 فیصد کم ہے ، مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران جاری کھاتوں کا مجموعی خسارہ 543 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہے۔انہوں نے کہاکہ زرمبادلہ کی آمد میں بھی مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 16.5 فیصد، خدمات کی برآمدات میں 28.8 فیصد، آئی ٹی برآمدات میں 17 فیصد جبکہ فری لانسرز کی آمدنی میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ بیرونی شعبے میں استحکام سے ملکی معیشت کی بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہونے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونے اور پائیدار اقتصادی نمو کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ مالی سال 2026-27 کے آغاز پر ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری کا رجحان برقرار رہا۔ جولائی 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت سے مالی سال 2025-26 کے دوران صنعتی شعبے میں شروع ہونے والی بحالی کے تسلسل کی عکاسی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جولائی کے دوران اہم صنعتی شعبوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آٹو موبائلز کی پیداوار میں 57 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 40.2 فیصد، گارمنٹس میں 22 فیصد، تیار شدہ دھاتی مصنوعات میں 13.6 فیصد، فرنیچر میں 10.1 فیصد، برقی آلات میں 7.9 فیصد جبکہ سیمنٹ کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈکمپنیوں کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ دس سال کی اوسط شرح کے قریب ہے۔کاروباری سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی اور کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر 45 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد تقریبا 312000 تک پہنچ گئی ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ اگست 2026 میں ایف ڈی آئی کا حجم 316 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 80 فیصد اور جولائی 2026 کے مقابلے میں 77 فیصد زیادہ ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کی آمد کے حوالے سے روشن ڈیجیٹل اکانٹس میں مجموعی رقوم 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ملک کو پائیدار پانڈا بانڈ کے اجرا پر گلوبل کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نوازا گیا جس سے پاکستان کی پائیدار مالیاتی آلات کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں موجودگی کی عکاسی ہورہی ہے ، انہوں نے کہاکہ ملکی کیپٹل مارکیٹ میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور انویسٹ پاککے ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد 12800 تک پہنچ گئی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے آغاز سے اب تک پانچ آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران 11 آئی پی اوز کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی سرگرمیوں میں اس پیش رفت سے استحکام سے اعتماد، اعتماد سے سرمایہ کاری، سرمایہ کاری سے پیداوار، پیداوار سے برآمدات اور روزگار اور بالآخر پائیدار اقتصادی نمو کی جانب پیش رفت کی عکاسی ہورہی ہے۔

مزید خبریں