اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):بیسویں صدی کے معروف شاعر، مصنف، کالم نگا ر اور صوفی واصف علی واصف کی سالگرہ جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ واصف علی واصف 15 جنوری 1929 کو خوشاب میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد ملک محمد عارف کا تعلق علاقہ کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ممتاز شاخ کنڈان سے تھا۔ واصف علی واصف نے ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی جبکہ …
بیسویں صدی کے معروف شاعر، مصنف، کالم نگا ر اور صوفی واصف علی واصف کی سالگرہ جمعرات کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):بیسویں صدی کے معروف شاعر، مصنف، کالم نگا ر اور صوفی واصف علی واصف کی سالگرہ جمعرات 15 جنوری کو منائی گئی۔ واصف علی واصف 15 جنوری 1929 کو خوشاب میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد ملک محمد عارف کا تعلق علاقہ کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ممتاز شاخ کنڈان سے تھا۔ واصف علی واصف نے ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی جبکہ 1944میں گورنمنٹ ہائی سکول جھنگ سے میٹرک،گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ سے انٹر میڈیٹ اور گورنمنٹ کالج جھنگ سے بی اے کے امتحانات فرسٹ ڈویژن میں پاس کئے۔
بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے انگریزی ادب میں تعلیم حاصل کی۔وہ سکول اور کالج میں ہاکی کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ 1948ء میں واصف علی واصف کو ہاکی میں حسنِ کارکردگی پر ”کالج کلر“ جبکہ 1949 ”ایوارڈ آف آنر“ سے نوازا گیا۔واصف علی واصف نے 1954 میں سول سروس کا امتحان پاس کیا مگر سرکاری نوکری چھوڑ کر کچھ ہی عرصہ بعد ریگل چوک لاہور کے ایک پنجابی کالج میں پرائیویٹ کلاسوں کو پڑھانا شروع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نابھہ روڈ پر لاہور میں انگلش کالج کے نام سے اپنا تدریسی ادارہ قائم کیا۔مختلف اخباروں اور جرائد میں ان کا کلام چھپا کرتا تھا جس کو یکجا کر کے 1978 میں ان کا پہلا مجموعہ کلام ”شب چراغ“ کے نام سے شائع ہوا ۔
1984 میں واصف علی واصف نے اہل علم،اہل قلم اور قارئین کے اصرار ہر کالم لکھنا شروع کئے اور روزنامہ نوائے وقت میں ان کا پہلا کالم ”محبت“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان کی چیدہ چیدہ تصانیف میں قطرہ قطرہ قلزم،حرف حرف حقیقت،دل دریا سمندر،بات سے بات،گمنام ادیب،مکالمہ ،ذکر حبیب،دریچےگفتگو کے علاوہ شعری مجموعے شب چراغ اور پنجابی شاعری بھرے بھڑولے کے علاوہ دیگر کتب شامل ہیں ۔ واصف علی واصف کی نگریزی میں بھی تصانیف شائع ہوئیں۔واصف علی واصف 18 جنوری 1993 کو لاہور میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں مدفون ہوئے۔ واصف علی واصف کی سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی حلقوں اور ان کے چاہنے والوں کی جانب سے منعقدہ مختلف تقاریب میں ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔








