اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی امداد حاصل کرنے والوں میں گریڈ21 کے افسر سمیت 2 ہزار 543 گزیٹڈ افسران یا ان کی بیویاں بھی شامل تھیں جن کو مستحقین کی مالی امداد کے اس پروگرام کی فہرستوں سے نکال دیا گیا ہے۔ بدھ کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے اپنے ٹویٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے …
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی امداد حاصل کرنے والوں میں گریڈ21 کے افسر سمیت 2 ہزار 543 گزیٹڈ افسران یا ان کی بیویاں بھی شامل تھیں، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی امداد حاصل کرنے والوں میں گریڈ21 کے افسر سمیت 2 ہزار 543 گزیٹڈ افسران یا ان کی بیویاں بھی شامل تھیں جن کو مستحقین کی مالی امداد کے اس پروگرام کی فہرستوں سے نکال دیا گیا ہے۔ بدھ کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے اپنے ٹویٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے معاشرے کے غریب طبقات اور مستحقین کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ماضی میں کی جانے والی اس لوٹ مار پر افسوس کااظہار کیا۔ وفاقی وزیر کی طرف سے ٹویٹر پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق ماضی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں میں وفاقی حکومت کے گریڈ 17 کے 48، گریڈ 18 کے 10، گریڈ 19 کا ایک اور گریڈ 20 کے 2 افسران یا ان کی بیویاں شامل تھیں جبکہ گریڈ 21 کے افسر یا ان کی اہلیہ نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ بلوچستان اور سندھ سے بڑی تعداد میں اعلیٰ سرکاری افسروں یا ان کی بیویوں نے مستحق افراد اور غرباء کے لئے شروع کئے جانے والے اس پروگرام کی آڑ میں جس طرح کی لوٹ مار کی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان حکومت کے گریڈ 17 کے 523 اور سندھ حکومت کے 449 افسران یا ان کی بیویوں نے بھی اس پروگرام سے استفادہ کیا۔ بلوچستان کے گریڈ 18کے 90، گریڈ 19 کے 99، گریڈ 20 کے 27 اور گریڈ 21 کے 2 افسر یا ان کی بیویاں نے بھی غریبوں کے فنڈز سے مزے کرتے رہے جبکہ سندھ کے افسران بھی پیچھے نہیں رہے۔ گریڈ 17کے 449، گریڈ 18 کے 342، گریڈ 19 کے 302 اور گریڈ 20 کے 29 افسران یا ان کی بیویاں بھی لوٹ مار کرنے والوں میں شامل ہیں۔ پنجاب میں اگرچہ گریڈ 20 اور 21 کا کوئی افسر بی آئی ایس پی سے استفادہ کرنے والوں میںشامل ہیں تاہم گریڈ 19 کے 4، گریڈ 18 کے 45 اور گریڈ 17 کے 88 افسران یا ان کی بیویوں نے بھی بی آئی ایس پی کے تحت مستحقین کو دی جانے والی رقم حاصل کی۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں گریڈ 17 کے 17 اور 27 جبکہ گریڈ 18 کے 3 اور 19 اور گریڈ 19کے 2، 2 افسروں یا ان کی بیویوں نے یہ رقم حاصل کی جبکہ گلگت بلتستان کا گریڈ 20 کا ایک افسر بھی پیچھے نہیں رہا۔ حد یہ ہے کہ بی آئی ایس پی میں تعینات گریڈ 17 کے 6 افسروں یا ان کی بیویوں جبکہ پاکستان ریلوے کے گریڈ 18 کے ایک افسر یا ان کی اہلیہ نے بھی بی آئی ایس پی کے تحت امدادی رقوم وصول کی۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ” کوئی شرم ہوتی ہے، حیاء ہوتی ہے۔ غریب لوگوں کے حق پر اس بے حیائی سے ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیا کہا جائے؟” ۔ علاوہ ازیں تجارت کی پارلیمانی سیکرٹری شاندانہ گلزار خان نے بھی اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غربیوں اور مستحقین کے اس پروگرام سے سرکاری افسروں کا استفادہ کرنا شرم ناک ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے بھی کہا کہ یہ لوگ غریب بن کر غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے رہے۔








