اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):بینک الفلاح کی خواتین اکائونٹ ہولڈرز کی تعداد میں گزشتہ سال 2025 کے دوران 12 فیصد اضافہ ہوا ہے، بینک کے مجموعی اکائونٹ ہولڈرز میں خواتین کا تناسب 18 فیصد تک بڑھ چکا ہے جن کی تعداد 6 لاکھ 50 ہزار کے قریب ہے۔ بینک الفلاح کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران بینک کی خواتین صارفین کی تعداد میں 12 فیصد کا نمایاں …
بینک الفلاح کی خواتین اکائونٹ ہولڈرز کی تعداد میں گزشتہ سال 2025 کے دوران 12 فیصد اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):بینک الفلاح کی خواتین اکائونٹ ہولڈرز کی تعداد میں گزشتہ سال 2025 کے دوران 12 فیصد اضافہ ہوا ہے، بینک کے مجموعی اکائونٹ ہولڈرز میں خواتین کا تناسب 18 فیصد تک بڑھ چکا ہے جن کی تعداد 6 لاکھ 50 ہزار کے قریب ہے۔ بینک الفلاح کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران بینک کی خواتین صارفین کی تعداد میں 12 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جس سے بینک کے مجموعی صارفین میں خواتین کا اکائونٹ ہولڈرز کا تناسب 18 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور بینک الفلاح کی خواتین صارفین کی تعداد 6 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
واضح رہے کہ بینک الفلاح کے مجموعی ڈیپازٹس میں خواتین صارفین 11 فیصد کی شراکت دار ہیں جن کی مالیت 237 ارب روپے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینک الفلاح قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں خواتین کے کاروباری اداروں کی ترقی و فروغ کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنا رہا ہے جس کے نتیجہ میں سال 2025 کے دوران بینک الفلاح سے قرض کی سہولت حاصل کرنے والی خواتین کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس دوران خواتین کے 117 مختلف کاروباری اداروں کو قرضہ کی سہولت فراہم کی گئی جن میں مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ کے کاروباری ادارے بھی شامل تھے۔ بینک الفلاح کی جانب سے سال 2025 کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے خواتین کے کاروباری اداروں کو مجموعی طور پر 521 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے گئے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق زرعی شعبہ میں میں خواتین کے 857 کاروباری اداروں کو سال 2025 میں 1.3 ارب روپے کے قرضے جاری کئے گئے جبکہ بینک الفلاح نے دوران سال 127 چھوٹے کاشتکاروں کو بلا سود 264 ملین روپے کے قرضہ جات بھی فراہم کئے ہیں۔ واضح رہے کہ بینک الفلاح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 2022 سے رقوم کی منتقلی کی خدمات بھی فراہم کر رہا ہے اور بینک سے بی آئی ایس پی کی رقوم وصول کرنے والی خواتین کی تعداد میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی مجموعی تعداد 4.5 ملین تک پہنچ چکی ہے۔\








