بینک اور مالیاتی ادارے نجکاری کے عمل کی معاونت کریں،مالیات کا شعبہ ملک میں نجکاری کے عمل کو کامیاب بنانے کیلئے نجکاری میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے والے اداروں کو قرضے فراہم کرے،وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا ہے کہ بینک اور مالیاتی ادارے نجکاری کے عمل کی معاونت کریں۔ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو نے جمعرات کو مالیات کے شعبہ سے کہا ہے کہ ملک میں نجکاری کے عمل کو کامیاب بنانے کیلئے نجکاری میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے والے اداروں کو قرضے فراہم کریں۔ وفاقی وزیر محمد میاں …

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا ہے کہ بینک اور مالیاتی ادارے نجکاری کے عمل کی معاونت کریں۔ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو نے جمعرات کو مالیات کے شعبہ سے کہا ہے کہ ملک میں نجکاری کے عمل کو کامیاب بنانے کیلئے نجکاری میں حصہ لینے اور کامیاب ہونے والے اداروں کو قرضے فراہم کریں۔ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے کراچی میں مقامی اور غیر ملکی سربراہوں سے ملاقات کی ہے۔ وزارت نجکاری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی اور غیر ملکی بینکوں کے سربراہوں سے اجلاس میں نجکاری بورڈ کے اراکین، فنانشل ایڈوائزری کنسورشیم کے اراکین، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک، این بی پی، ایم سی بی، یو بی ایل، اے بی ایل، حبیب میٹرو پولیٹن، بینک الحبیب، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، ایچ بی ایل، میزان بینک اور فیصل بینک کے صدور اور گروپ چیفس نے بھی شرکت کی ہے۔ اجلاس میں نیشنل پاور پارک مینجمنٹ کمپنی کے دو آر ایل این جی پاور پلانٹس کے قرضوں پر غور کیا گیا۔ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان میں بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کو کم کرنے کیلئے این پی پی ایم سی ایل کے 12 پاور پلانٹس کی بولی کے حوالہ سے شارٹ لسٹنگ کی گئی۔ حکومت این پی پی ایم سی ایل میں اپنے سو فیصد حصص فروخت کرنا چاہتی ہے تاکہ پاور پلانٹس اہل سرمایہ کاروں کے حوالے مینجمنٹ کنٹرول کے ساتھ کئے جائیں۔ نجکاری کے عمل کے تحت کامیاب بولی دہندگان حکومت پاکستان/پی ڈی ایف ایل کی ری فنانس فنڈنگ اور این پی پی ایم سی ایل کے پہلے سے موجود کمرشل قرضے مقامی اور غیر مقامی حاصل شدہ قرضوں سے ادا کریں گے۔ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو نے کہا کہ نجکاری کے عمل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ بینک اہل بولی دہندگان کو اثاثے خریدنے میں مالی معاونت فراہم کریں۔ اجلاس کراچی میں سٹیٹ بینک میں منعقد ہوا جس میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی ندیم بابر نے کہا کہ حکومت اصلاحات کے عمل سے گردشی قرضے کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تاہم کورونا وبا کی وجہ سے اس عمل میں کچھ تاخیر ہوئی ہے۔ بینکوں نے تجویز دی کہ نجکاری میں بینکوں کی دلچسپی بڑھانے کیلئے حکومت ٹیرف کی شرائط وغیرہ پر غور کرے۔

مزید خبریں