اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا انعقاد، افغانستان میں قیام امن کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ افغان عوام کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے جیساکہ پہلے ہوچکا ہے۔ مذاکرات میں افغانوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرنا ہے۔ صرف اور صرف …
پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہی ہے ، افغان قیادت کیلئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں مستقل اور دیرپا قیام امن کی راہ ہموار کریں، مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا انعقاد، افغانستان میں قیام امن کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ افغان عوام کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے جیساکہ پہلے ہوچکا ہے۔ مذاکرات میں افغانوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرنا ہے۔ صرف اور صرف افغان ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مختار ومجاز ہیں۔افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ باتیں انہوں نے ہفتہ کو دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وزیر خارجہ نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ قطر کی خصوصی دعوت پر بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔پاکستان کی طرف سے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق دوحہ اجلاس میں شریک ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کا انعقاد، افغانستان میں قیام امن کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ آج دنیا پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہی ہے ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان قیادت کیلئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں مستقل اور دیرپا قیام امن کی راہ ہموار کریں۔پاکستان نے مشترکہ ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے، افغان امن عمل میں اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کیا اورکرتا رہے گا۔افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دوہرایا جائے اور افغانستان میں قیام امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔ہمیں ان شر پسند عناصر پر بھی نظر رکھنا ہو گی جو افغان امن عمل کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تشدد میں کمی اور مذاکرات ومکالمے کی حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان اس سفر میں ہر ممکن طورپر افغانون کے ہمرکاب وہم سفر رہا ہے۔ پاکستان نے اس عمل میں بھرپور سہولت کاری کی ،بین الافغان مذاکرات کا انعقاد ہم سب کی مشترکہ کوششوں کا حاصل ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا یہ امر بھی ہمارے لئے باعث مسرت ہے کہ ہم نے اپنے حصے کی ذمہ داری کو حسن وخوبی سے نبھایا ہے۔ افغان قائدین کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعمیری انداز میں مل کر کام کرنا ہوگا اور تنازعے کا جامع، وسیع البنیاد اور اجتماعیت کا حامل سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔ ان مذاکرات میں افغانوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ صرف اور صرف افغان ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مختار ومجاز ہیں۔ کسی بھی بیرونی اثر یا مداخلت کے بغیر انہیں ازخود یہ طے کرنا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو افغان تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 40 سال میں ہم نے دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا ، قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا ، آبادی کی نقل مکانی کے عذاب جھیلے، سرحدوں پر عدم استحکام اور بھاری معاشی نقصانات برداشت کئے۔ ہمارے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور جوانوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ہماری قیادت نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم صرف امن میں حصہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی موقع پر یہ انتہائی ناگزیر امر ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ افغان عوام کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے جیساکہ پہلے ہوچکا ہے۔ حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بے ثمر اور رائیگاں نہ جانے دیاجائے۔ پرامن اور مستحکم افغانستان افغان عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کی نئی نوید اور امکانات لائے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کے اندر بلکہ دنیا بھر کے ساتھ تعاون اور روابط استوار کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے میں چارنکاتی حکمت عملی کی تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری اور متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ
(الف) افغانوں کی قیادت میں افغانوں کو قبول امن عمل کی حمایت جاری رکھتے ہوئے بین الافغان مذاکرات میں پیدا ہونے والے اتفاق رائے کا احترام کیاجائے۔
(ب) یقینی بنایاجائے کہ افغانستان میں متشدد ماضی لوٹ کر واپس نہ آئے اور نہ ہی یہاں ان عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ہی میسرآئے جو اس کی سرحدوں سے دوسروں کو نقصان پہنچائیں۔
(ج) افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لئے معاشی سرگرمیوں کی تقویت اور نشوونما۔
(د) وسائل اور مدت کے تعین کے ساتھ افغان۔ مہاجرین کی باعزت اپنے گھروں کو واپسی یقینی بنایا جائے۔وزیر خارجہ نے اس امید افزا مرحلے پر اپنے افغان بھائیوں کو یقین دلایا کہ امن، ترقی، سلامتی اور ترقی کی شاہراہ پر آپ کے اس تاریخی سفر میں پاکستان کی حمایت، مدد اور یک جہتی ہمیشہ آپ کو میسر رہے گی۔پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری، خوشحال اور خودمختار افغانستان کی حمایت کرتا رہے گا جو نہ صرف داخلی طورپر بلکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی حالت امن میں ہو۔








