بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ترجمہ و ترجمانی، کلیہ عربی نے عالمی یوم ترجمہ کے موقع پر طالبات کیمپس میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں ترجمہ، ترجمانی، زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کیا گیا
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ترجمہ و ترجمانی، کلیہ عربی کی جانب سے عالمی یوم ترجمہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ترجمہ و ترجمانی، کلیہ عربی نے عالمی یوم ترجمہ کے موقع پر طالبات کیمپس میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں ترجمہ، ترجمانی، زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کی منظوری صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے دی تھی تاہم ان کی سعودی عرب میں موجودگی کے باعث نائب صدر جامعہ برائے تدریسی امور پروفیسر ڈاکٹر ندیم احمد شیخ نے ان کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریب کی صدارت کی۔ پاکستان اکادمی ادبیات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد حدیث مبارک پیش کی گئی اور اس کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ تقریب میں شعبہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی نمائندگی کو اجاگر کرتے ہوئے متعلقہ ممالک کے قومی ترانے بھی پیش کیے گئے۔ کلیہ عربی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر فضل اللہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کو باہم جوڑنے میں ترجمہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے دور میں ترجمہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ شعبہ ترجمہ و ترجمانی کی انچارج ڈاکٹر نرگس نذیر نے ’’ترجمہ کے ادوار: الفاظ کی منتقلی سے مفہوم کی تشکیل تک‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ وقت کے ساتھ محض الفاظ کی منتقلی سے آگے بڑھ کر مفہوم کی تشکیل کا عمل بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ٹیکنالوجی مترجمین کی معاونت کر سکتی ہے تاہم انسانی فہم، ذمہ داری اور فیصلہ سازی کی اہمیت برقرار رہے گی۔ ڈاکٹر محمد سعید نصیر القرنی نے بھی ترجمہ کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور زبان کے ماہرین کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی ضرورت پر اظہار خیال کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے شعبہ ترجمہ و ترجمانی کے مثبت تعلیمی ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبانیں فکر، ثقافت، شناخت اور انسانی تجربات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی لسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے تعمیری انداز میں استفادہ کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم احمد شیخ نے شعبہ کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے مختلف اقوام کے درمیان رابطے اور باہمی مفاہمت کے فروغ میں ترجمانی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی فہم، فیصلہ سازی، ثقافتی آگہی اور مؤثر ابلاغ جیسے شعبوں میں مشینیں انسانوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمان مقررین کو یادگاری شیلڈز جبکہ طلبہ منتظمین کو اسناد پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر ذکیرا جہانتاب نے کلمات تشکر ادا کیے۔ تقریب ڈاکٹر نرگس نذیر، ڈاکٹر عارف صدیق اور ڈاکٹر ذکیرا جہانتاب کی نگرانی میں منعقد ہوئی جبکہ طلبہ کی ٹیم نے انتظامی امور میں معاونت کی۔







