بین الاقوامی فوجداری عدالت عالمی نظامِ انصاف کا اہم ستون ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی )کے اہم کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی نظامِ انصاف کا نہایت اہم ستون ہے۔ یواین او کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ختم کرنے کی بات …

اقوام متحدہ۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے عالمی سطح پر سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی )کے اہم کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی نظامِ انصاف کا نہایت اہم ستون ہے۔ یواین او کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ختم کرنے کی بات کی گئی۔ ترجمان سٹیفن دوجارک سے گزشتہ روز معمول کی پریس بریفنگ کے دوران پوچھا گیا کہ آیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اس بارے میں کوئی ردِعمل ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مبینہ طور پر آئی سی سی کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم جیسے سنگین مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ آئی سی سی یواین او کے سیکرٹریٹ سے الگ خودمختار ادارہ ہے لیکن ہماری نظر میں یہ بین الاقوامی نظامِ انصاف کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت کو دنیا کے بہت سے رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے اور یہ سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا (Rome Statue) معاہدے کا فریق نہیں ، یہ 1998 کا وہ معاہدہ ہے جس کے تحت نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت وجود میں آئی۔وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قومی خودمختاری اور آزادی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے کبھی بھی ایسی عالمی عدالت کو تسلیم نہیں کیا جو ہماری اپنی عدالتوں اور آئین سے بالاتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایک سفارتی مہم شروع کر رہا ہے جس کا واضح پیغام ہے ’’عالمی نظام (گلوبل ازم)پر خودمختار ریاستوں کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا آزادی ہمارا پیدائشی حق ہے اور امریکا اسے بین الاقوامی قانون کے خودساختہ نگہبانوں کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال امریکا نے آئی سی سی کے9اہلکاروں جن میں جج، چیف پراسیکیوٹر اور نائب پراسیکیوٹرز شامل تھے، پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ پابندیاں افغانستان میں امریکی افواج اور غزہ میں اسرائیل سے متعلق مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے تناظر میں لگائی گئی تھیں۔