اقوام متحدہ۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے تنازعات کو جنم دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نےسلامتی کونسل میں ’’بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کی توثیق‘‘ کے عنوان پر ہونے والی بحث میں خطاب کرتے ہوئے گزشتہ مئی میں پاکستان پر بھارت کے ’’بلااشتعال‘‘ حملے، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل …
بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے تنازعات کو جنم دے رہی ہے،پاکستان کا اقوام متحدہ میں بھارت کے جارحانہ اقدامات کا حوالہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے تنازعات کو جنم دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نےسلامتی کونسل میں ’’بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کی توثیق‘‘ کے عنوان پر ہونے والی بحث میں خطاب کرتے ہوئے گزشتہ مئی میں پاکستان پر بھارت کے ’’بلااشتعال‘‘ حملے، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل نفی، اور دونوں ممالک کے درمیان 1960 کے سندھ طاس معاہدے (IWT) کی یکطرفہ معطلی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول جیسے ریاستوں کی خودمختار برابری، عدم مداخلت، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی ممانعت اور حقِ خودارادیت تیزی سے چیلنج ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ منشور سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور اور کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جنوری کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت کرنے والے ملک صومالیہ نے اس بحث کا اہتمام کیا۔ اس کے تصوراتی نوٹ میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی بارہا توثیق کے باوجود، بین الاقوامی برادری کو قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ نوٹ میں کہا گیا کہ افریقہ سمیت تمام وہ ممالک جنہوں نے تنازعات اور عدم مساوات کی قیمت چکائی ہے، ان کے لیے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی خودمختاری، وقار اور انصاف کی ضامن ہے۔
اقوامِ متحدہ کے منشور کی 80ویں سالگرہ سلامتی کونسل کے لیے پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر غور کا بروقت موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستانی مندوب نے بحث کو ’’بروقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانونی اصولوں کے انتخابی اطلاق، معاہداتی ذمہ داریوں کی کمزوری اور یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا اور اقوامِ متحدہ کے منشور پر مبنی کثیرالجہتی نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب قانون طاقت یا وقتی مصلحت کے سامنے جھک جائے تو عدم استحکام بڑھتا ہے، تنازعات مزید گہرے ہوتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے’’فوجی جارحیت‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ردِعمل نے یہ واضح کر دیا کہ جبر یا استثنا پر مبنی کوئی’’ نیو نارمل‘‘ قابلِ قبول نہیں۔ بین الریاستی تعلقات میں بین الاقوامی قانون ہی واحد جائز معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ’’سنگین‘‘ خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل نفی کے سنگین انسانی حقوق کے نتائج ہیں اور یہ پائیدار امن کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو لاکھوں افراد کی زندگیوں اور معاش کو خطرے میں ڈالتی اور امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور معاہدوں کی پابندی بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام پر غیرمتزلزل یقین رکھنے والے ملک کے طور پر پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ جولائی میں پاکستان کی قیادت میں سلامتی کونسل نے تنازعات کے پرامن حل سے متعلق قرارداد 2788 متفقہ طور پر منظور کی۔بھارت کے ’’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ سے متعلق پاکستانی مندوب کے بیانات پر بھارتی مندوب پروتھنی ہریش نے ردِعمل دیتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر پہلگام حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ۔ پاکستان نے بھارت کے ’’بے بنیاد‘‘ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور نہ کبھی ہوگا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے اپنے جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت خود کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا تھا اور اس نے کشمیری عوام سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی استصوابِ رائے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انکار کر رہا ہے اور بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے بھارت کو ’’جھوٹ کا سوداگر، عالمی سطح پر قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا اور خطے سمیت دیگر مقامات پر دہشت گردی کی سازشیں کرنے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کھیل جیسے بے ضرر شعبے کو بھی سیاست کی نذر کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ذریعے بھارت پاکستان کے قدیم زرخیز میدانوں کو بنجر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس تازہ اشتعال انگیزی، اس آبی دہشت گردی کا مقابلہ اسی عزم، وضاحت اور کامیابی سے کریں گے جس طرح گزشتہ سال مئی میں بھارت کی جارحیت کا دفاع کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے فرسٹ سیکرٹری نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی سرپرستی میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ریاستی مظالم کی پردہ پوشی نہیں کر سکتے ۔







