شہید ایس پی اکبر خان شنواری کی تدفین کے بعد اشکبار لمحات میں ایک معصوم بیٹا اپنے والد کی قبر کے سامنے کھڑا ہوا، ہاتھ اٹھا کر سلامی دی اور اپنے والد کے مشن کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ ایک سادہ عمل تھا لیکن اس نے دلوں کو چھو لیا۔ جب لواحقین اور پولیس کا دستہ شہید کے جسدِ خاکی کو آخری سلامی دینے کے لیے جمع …
بیٹے کا سلام: شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے کا تعلیم کے ذریعے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا عزم

مزید خبریں
پشاور۔ 19 ستمبر (اے پی پی):شہید ایس پی اکبر خان شنواری کی تدفین کے بعد اشکبار لمحات میں ایک معصوم بیٹا اپنے والد کی قبر کے سامنے کھڑا ہوا، ہاتھ اٹھا کر سلامی دی اور اپنے والد کے مشن کو پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ ایک سادہ عمل تھا لیکن اس نے دلوں کو چھو لیا۔ جب لواحقین اور پولیس کا دستہ شہید کے جسدِ خاکی کو آخری سلامی دینے کے لیے جمع تھے، اس وقت ایک چھوٹے سے بچے کو اپنے والد کو اس انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرتے دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ بچہ جس نے ابھی ابھی اپنے والد کو کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز میں فرض کی راہ میں قربان ہوتے دیکھا۔ اس کی اس سلامی میں غم کے ساتھ ساتھ بے پناہ فخر کا عنصر بھی شامل تھا۔ ایس پی اکبر شنواری جمعہ کو کوہاٹ میں ہونے والے دھماکے اور دہشت گردانہ حملے میں 15 دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
ان کی نمازِ جنازہ ہفتے کے روز تخت بھائی، مردان کے ہاتھیان اسپورٹس کمپلیکس میں ادا کی گئی جس میں مقامی لوگوں، اعلیٰ پولیس حکام اور دیگر شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر تخت بھائی کی فضائیں سوگوار رہیں۔ اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے غم و اندوہ کے درمیان، شہید کے بیٹے نے اس عزم کا اظہار کیا جسے وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کی ہے، اور انسانیت کی خدمت کا ان کا مشن جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے والد مجھے آرمی ڈاکٹر بننا دیکھنا چاہتے تھے اور میں ان کی اس قربانی کا بدلہ تعلیم کے ذریعے لوں گا۔
اس بچے کےلیے شہید افسر صرف ایک بہادر پولیس اہلکار نہیں بلکہ ایک شفیق اور محبت کرنے والے والد بھی تھے جو اپنے بیٹے کی تعلیم اور تربیت سے ہمیشہ جڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت پیار کرنے والے تھے اور جب بھی گھر آتے، میری پڑھائی کے بارے میں ضرور پوچھتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس کے اساتذہ سے مل کر بھی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ آخری بار جب وہ گھر آئے تو انہوں نے مجھے ایک کتاب اور ایک قلم تحفے میں دیا تھا۔ وہ ہر مشکل وقت میں پرسکون رہتے تھے اور مجھے ہمیشہ نماز پڑھنے، صبح سویرے اٹھنے اور لگن سے پڑھائی کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔
اپنے والد کے ایمانداری اور کردار کا ذکر کرتے ہوئے بیٹے نے کہا کہ ایس پی اکبر شنواری ایک سچے مومن تھے جو کبھی موت سے نہیں ڈرتے تھے۔ وہ ہمیشہ غازی بننے یا شہادت کا رتبہ حاصل کرنے کی دعا کرتے تھے اور جمعہ کے دن ان کی یہ دعا قبول ہو گئی۔ والد کی قبر پر اس بچے کا سلام محض آخری الوداع نہیں تھا بلکہ ایک پختہ عزم تھا۔ شہید افسر اپنے پیچھے ایک سوگوار خاندان چھوڑ گئے ہیں لیکن ان کی آرزوئیں ان کے بیٹے کے عزم میں زندہ ہیں۔ ایک ایسا عزم جو تشدد سے نہیں بلکہ قلم، کتاب اور تعلیم کی طاقت سے پورا ہوگا۔








