اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے ایل این جی کے سپلائرز کو پی ایس او اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی طرف سے ادائیگیوں سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان سٹیٹ آئل نے گنور کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا اورپاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 2016 میں ای این آئی کے ساتھ معاہدہ …
ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے ایل این جی کے سپلائرز کو پی ایس او اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی طرف سے ادائیگیوں سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے ایل این جی کے سپلائرز کو پی ایس او اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی طرف سے ادائیگیوں سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان سٹیٹ آئل نے گنور کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا اورپاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 2016 میں ای این آئی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، ان معاہدوں کے تحت ہر جہاز پر 0.5 ملین امریکی ڈالر تک کا پورٹ چارج سپلائزر کو برداشت کرناپڑتا تھا اور اس سے زیادہ اضافی درآمد کنندہ یعنی پاکستان سٹیٹ آئل اینڈپاکستان ایل این جی لمیٹڈ کو ادا کرنا تھا۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دوران سپلائی کرنے والوں کے ذریعہ 0.5 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی بندرگاہ چارجز کا دعوی کیا گیا تھا اور پی ایس او اینڈ پی ایل ایل کے ذریعہ اس کی ادائیگی کی گئی تھی۔ 2016 کے آغا ز میں کل رقم تقریبًا 40 امریکی ملین ڈالر تھی،2019 میں موجودہ حکومت نے پاکستان سٹیٹ آئل /پاکستان ایل این جی لمیٹڈکو ہدایت کی کہ وہ تمام چارجز کا جائزہ لے کہ وہ کس طرح کم ہو سکتے ہیں۔ اس دوران ، یہ انکشاف ہوا کہ ان اضافی معاوضوں میں سے کچھ ، جو وحقیقت میں پو رٹ قاسم اتھا رٹی کو ادا کئے گئے تھے ، کو خارج کیا جاسکتا ہے اور اسی وجہ سے ، قانونی وضا حت کے تحت سپلائرز کی ذمہ داری بن گئی۔وزارت توانائی کی ہدایت پر ، پاکستان سٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اس سپلائرز کے ساتھ معاملہ پر غور کریں گے جو اس وضا حت سے متفق نہیں ہیں۔ بیان کے مطابق پاکستان سٹیٹ آئل نے اس کے بعد اپنے سپلائر سے ان چارجز کو گنور کے ساتھ ایڈجسٹ کیا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تفصیلی فرانزک آڈٹ طلب کرنے کے لئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی عمل پچھلے پانچ سالوں سے کس طرح جاری ہے اور پچھلے ایم ڈی اور موجودہ انتظامیہ نے تدارک کےلئے کوئی اقدامات کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈنے چا رجز وصولی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ مکمل طور پربے بنیاد اور غلط رپورٹ کے باوجود موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومت کی اضافی ادائیگیوں کی ریکوری کے کےلئے قدم اٹھایا جو گزشتہ حکومت نے سخت قانونی ذمہ داریوں اور معاہدے کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے وصول کی، نصف سے زیادہ کی پہلے ہی وصولی کی جا چکی ہے جبکہ بقایا پر ابھی کام جاری ہے۔







