ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن جاری ہے ، گرفتار افراد میں افغان شہری سرفہرست ہیں۔ تفصیلات کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن اور انسانی سمگلرز کےخلاف ترکیہ میں ہنگامی آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) نے گرفتار غیر قانونی تارکین وطن سےمتعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ۔
ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، گرفتار افراد میں افغان شہری سرفہرست

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن جاری ہے ، گرفتار افراد میں افغان شہری سرفہرست ہیں۔ تفصیلات کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن اور انسانی سمگلرز کےخلاف ترکیہ میں ہنگامی آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) نے گرفتار غیر قانونی تارکین وطن سےمتعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں ریکارڈ 70 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن گرفتار کئے جاچکے ہیں، گرفتار ہونے والے افراد میں 19 ہزار 574 غیر قانونی افغان مہاجرین جبکہ 6 ہزار سے زائد انسانی سمگلرز بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ترکیہ سے13 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے۔ معروف افغان نیوز ایجنسی دی خاما پریس کے مطابق طالبان رجیم میں معاشی بدحالی، بڑھتی بے روزگاری اور صنفی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے ملک چھوڑ چکے ہیں،تمام تر مشکلات اور کریک ڈاؤن کے باوجودافغان مہاجرین کی جانب سے ترکیہ کے راستے یورپ جانے کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق غیر قانونی افغان مہاجرین کی آڑ میں انسانی سمگلنگ اور منشیات کے جرائم بڑھ رہے ہیں جو میزبان ممالک کے امن و امان کیلئے مستقل خطرہ ہیں، طالبان رجیم میں افغانستان میں جاری معاشی بربادی اور انسانی حقوق کی پامالی ہی دراصل اس غیر قانونی ہجرت کی اصل جڑ ہے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک افغانستان میں جبر کا یہ موجودہ نظام نہیں بدلتا، تب تک تارکینِ وطن کا یہ شدید بحران برقرار رہے گا۔







