26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںتعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ہے ، حکومت خواتین کو قائدانہ کردار...

تعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ہے ، حکومت خواتین کو قائدانہ کردار کے لئے تیار کر رہی ہے۔ وجیہہ قمر

- Advertisement -

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ہے اور حکومت خواتین کو قائدانہ کردار کے لئے تیار کر رہی ہے،جب خواتین کو وسائل، علم اور اختیار ملتا ہے تو پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری ترقی کے موضوع پر دو روزہ سیمینارز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار کا مقصد خواتین کو اقتصادی ترقی میں فعال کردار کے لئے پالیسی سطح پر حمایت، ادارہ جاتی تعاون اور کمیونٹی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔تقریبات میں وفاقی و صوبائی قیادت، خواتین کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور میڈیا نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ پہلے روز گورنر ہاؤس میں ہونے والے سیمینار میں گورنر بلوچستان، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی وزیر غربت مکاؤ، صوبائی وزراء اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خواتین ترقی شریک ہوئے جبکہ دوسرے روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اعلیٰ حکام نے خطاب کیا۔

سیمینارز کے دوران خواتین کی سربراہی میں چلنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی خصوصی نمائش بھی ہوئی جس میں زراعت، لائیو سٹاک، فوڈ پروسیسنگ اور دستکاریوں کے سٹالز شامل تھے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے کی خواتین زراعت اور دیہی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی کوششوں کا ادارہ جاتی سطح پر اعتراف ناگزیر ہے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو سماجی ترجیح کے ساتھ معاشی ضرورت قرار دیا اور پالیسی ساز ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔ ڈپٹی سپیکر غزالہ گولا نے مطالبہ کیا کہ خواتین کی ترقی کے لئے قانون سازی اور بجٹ محض علامتی نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر ہوں۔مشیر وزیراعلیٰ برائے خواتین ترقی نے زور دیا کہ یہ محض مختصر منصوبوں کا نہیں بلکہ نظام سازی کا عمل ہے جس میں خواتین کو مرکزیت دینا ہوگی۔ محکہ خواتین ترقی، منصوبہ بندی و ترقی اور زراعت کے سیکرٹریز نے بھی خواتین کے لیے پائیدار اقدامات پر روشنی ڈالی۔ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی رہنماؤں کی بھرپور شرکت نے ان سیمینارز کو ایک مؤثر اور عملی پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا جس کے ذریعے خواتین کی معاشی ترقی کے لئے زمینی حقائق پر مبنی حکمت عملی وضع کی جا سکے گی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں