اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ15ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے تجاویز زیر غور ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ7ستمبر کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں کیا جائے گا، کورونا وبا سے حالات بہتر ہونے کی صورت میں تعلیمی ادارے پرانے شیڈول پر آجائیں گے،سکول کھولنے کے بعد ٹیچر اور ہیڈ ٹیچر کا کردار اہم ہوگا۔ لرننگ بہتر …
تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ7ستمبر کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں کیا جائے گا وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ15ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے تجاویز زیر غور ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ7ستمبر کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں کیا جائے گا، کورونا وبا سے حالات بہتر ہونے کی صورت میں تعلیمی ادارے پرانے شیڈول پر آجائیں گے،سکول کھولنے کے بعد ٹیچر اور ہیڈ ٹیچر کا کردار اہم ہوگا۔ لرننگ بہتر کرنے کے لئے ہمارے پاس بہتر تجاویزآرہی ہیں،کووڈ۔19کی صورتحال پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے،یہ بیماری ابھی حتم نہیں ہوئی پاکستان سیمت دنیا بھر میں اب بھی موجود ہے، ایس اوپیز پر عملدرامد کی ضرورت ہے،کلاسز کے سائز کو کم کرنا ضروری ہے،کم قوت مدافعت والے بچوں کو پہلے مرحلے میں سکول نہ جانے دیا جائے ،سماجی فاصلے ، ماسک کا استعمال اور باقاعدگی سے ہاتھ دھوئے جائیں،تعلیمی ادارے کھولنے سے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعہ کو این سی اوسی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم نے کہاکہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں ،نویںاور دسویں،گیارویں،بارویں اور یونیورسٹی15ستمبر سے کھول دئے جائیں گے،اس کے بعد ایک ہفتہ بعدچھٹی سے آٹھویں تک کلاسیں اور اگر30ستمبر تک کورونا کے حالات ٹھیک رہے تو پرائمری سکولز کھول دئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تجویز ہے حتمی فیصلہ7ستمبر کو کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے6 ماہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی، پرائیویٹ سکولوں پر بھی کافی اثر پڑا، اللہ کے فضل سے ملک میں کورونا صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو تعلیمی ادارے پرانے شیڈول پر آجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوروناکی وجہ سے تعلیمی شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ ہے،انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد اساتذہ کا کردار اہم ہوگا،جو بھی بچہ سکول آجاتا ہے پھر ذمہ داری ٹیچر کی ہے،کورونا وائرس کی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی،ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ مشکل مرحلہ ضرور ہے کوشش ہے کہ ایک منظم طریقے سے اس کو حل کریں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی لرننگ بہتر کرنے کے لئے مختلف تجاویز آرہی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ15ستمبر سے بتدریج سکول کھول دئے جائیں گے لیکن حتمی فیصلہ7ستمبر کو کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات کی شرح میں کمی آئی ہے، کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل تھا،ملک میں تقریباً5کروڑ نوجوان اور بچے تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں،توقع ہے کہ تعلیمی ادارے بتدریج کھلیں گے،سماجی فاصلے ، ماسک کا استعمال اور باقاعدگی سے ہاتھ دھوئے جائیں،تعلیمی ادارے کھولنے سے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔معاون خصوصی نے کہا کہ کم قوت مدافعت والے بچوں کو پہلے مرحلے میں سکول نہ جانے دیا جائے۔معاون خصوصی نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد کلاسز کے سائز کو کم رکھنا ضروری ہے،اگر کلاس میں40 بچے ہیں تو ایک وقت میں20کو پڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کو ادارے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔









