اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی واضح ہدایات کے مطابق سسٹم کو مضبوط بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ منگل کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیہہ قمر نے کہا کہ …
تعلیمی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، وجیہہ قمر

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی واضح ہدایات کے مطابق سسٹم کو مضبوط بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ منگل کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیہہ قمر نے کہا کہ حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مثبت نتائج کے لیے وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ نسلوں کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے تاہم حکومت نے آغاز ہی سے ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم نے اپنے بیشتر امور کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا ہے، جس سے پراسیسنگ، ٹریکنگ اور احتساب کا نظام مضبوط ہوا ہے۔ ٹینڈرز کی جانچ پڑتال بھی ڈیجیٹل طریقے سے کی جا رہی ہے جو شفافیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیرِ مملکت کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتوں میں ای پیڈز متعارف کروائے گئے تاکہ فیصلہ سازی میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جا سکے اور عوامی اعتماد بحال ہو۔
وجیہہ قمر نے کہا کہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای)، فیڈرل بورڈ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے باہمی اشتراک سے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ایف ڈی ای میں ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جبکہ اے آئی پر مبنی پورٹل تکمیل کے مراحل میں ہے تاکہ فیصلے ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر کیے جا سکیں اور ان کے نتائج بھی واضح طور پر سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور والدین کی شکایات کے اندراج اور ازالے کے لیے مکمل میکنزم موجود ہے، نوجوانوں کی تعلیم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایچ ای سی، ایف ڈی ای اور دیگر ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام تعلیمی ڈیٹا کو محفوظ شکل میں رکھنے پر کام جاری ہے۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے تحت “مکتب” کے نام سے ایک جامع ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جس کا افتتاح ایچ ای سی میں کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 25 پبلک یونیورسٹیز میں اس کا آغاز کیا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں اسے تمام پبلک یونیورسٹیز تک توسیع دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مکتب سسٹم کے تحت ہر طالب علم کا آغاز سے لے کر ڈگری تک مکمل تعلیمی ریکارڈ، گریڈز، ٹرانسکرپٹس اور ڈگری کے اجرا کا شفاف نظام ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا، اس سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ شفافیت بڑھے گی اور یہ نظام ایک “گیم چینجر” ثابت ہوگا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔
وجیہہ قمر نے مزید بتایا کہ ایف ڈی ای میں بی ایس پروگرام کے لیے ایک مرکزی ای پورٹل متعارف کروایا گیا ہے جس سے چار ہزار کے قریب طلبہ مستفید ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں بی ایس پروگرام جبکہ بعد ازاں دیگر داخلہ عمل بھی اس سسٹم میں شامل کیے جائیں گے۔ اسی طرح انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (آئی بی سی سی) میں بھی آن لائن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جہاں ایک آئی ڈی کے ذریعے ایکویلینس اور ویریفیکیشن کو 24 گھنٹے ٹریک کیا جا سکے گا، جس سے بین الاقوامی بورڈز کی رجسٹریشن کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی نظامت تعلیمات پر وزارتِ تعلیم خصوصی توجہ دے رہی ہے اور خصوصی بچوں کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے سینٹر آف ایکسیلینس فار آٹزم کا افتتاح کیا ہے جبکہ ای کچہریوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے تاکہ والدین اور طلبہ اپنی شکایات براہِ راست درج کروا سکیں۔ وزیرِ مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیمی معیار، شفافیت اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے ایک مضبوط اور مؤثر تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے کام جاری رکھے گی۔







