کوئٹہ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے اکیڈمک قد کو اتنا بلند کیا جائے کہ ہمارے صوبے سے سٹوڈنٹس باہر جانے کے بجائے دوسرے صوبوں کے سٹوڈنٹس یہاں کا رخ کریں، یہ تب ممکن ہوگا جب ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریگا، پبلک یونیورسٹیز کے اساتذہ کرام اپنا نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ کاغذی ریسرچ کے بجائے …
تعلیم اور تحقیق کے درمیان فاصلوں کو ختم کرکے ہم جدت کو فروغ دے سکتے ہیں اور معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، گورنربلوچستان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے اکیڈمک قد کو اتنا بلند کیا جائے کہ ہمارے صوبے سے سٹوڈنٹس باہر جانے کے بجائے دوسرے صوبوں کے سٹوڈنٹس یہاں کا رخ کریں، یہ تب ممکن ہوگا جب ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریگا، پبلک یونیورسٹیز کے اساتذہ کرام اپنا نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ کاغذی ریسرچ کے بجائے اپلائیڈ ریسرچ پر بھی توجہ دیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ریسرچ سے سماج کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے، تعلیم اور تحقیق کے درمیان فاصلوں کو ختم کرکے ہم جدت کو فروغ دے سکتے ہیں اور معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے دورے کے موقع پر ٹینور ٹریک سسٹم کے فیکلٹی ممبرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور پرو وائس شاہوانی بھی موجود تھے۔ فیکلٹی ممبرز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج میری خواہش تھی کہ آپ کو براہ راست سن سکوں تاکہ زمینی حقائق سے درست آگاہی حاصل کر سکوں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جسطرح سندھ حکومت سندھی کی ترقی و ترویج کیلئے کوشاں ہے، میں ذاتی طور پر اپنی مادری زبانوں پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر کے تحفظ اور فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کیلئے پرعزم ہوں، یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم ان لسانی خزانوں کو محفوظ رکھیں، جو ہمارے ثقافتی ورثے اور قومی شناخت سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔








