تل کی کاشت بھاری میر ازمین میں کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے، محکمہ زراعت سمبڑیال

سیالکوٹ ۔ 05 جون (اے پی پی):تل کی کاشت بھاری میر ازمین میں کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹرافتخار حسین بھٹی نے تل کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تل کی کاشت کے لیے درمیانی اور بھاری میرا زمین جس میں پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو موزوں ہے، چکنی اور …

سیالکوٹ ۔ 05 جون (اے پی پی):تل کی کاشت بھاری میر ازمین میں کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹرافتخار حسین بھٹی نے تل کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ تل کی کاشت کے لیے درمیانی اور بھاری میرا زمین جس میں پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو موزوں ہے، چکنی اور پانی جذب نہ کرنے والی زمینوں میں بارش یا آبپاشی کا پانی کھڑا ہونے سے پودے مرنا شروع ہو جاتے ہیں ،اس لیے ایسی زمینوں پر تل کاشت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، زیادہ ریتلی سیم و تھور زدہ اور نشیبی زمینیں بھی تل کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عام کاشت کے لیے سفید تل کی منظور شدہ اقسام ٹی انچ ۔ 6، ٹی ایس 5، نیاب پرل ، ٹی ایس۔3 ، نیاب تل 2016، نیاب ملینیم ، انمول تل اور بلیک تل کی قسم بلیک کنگ ہیں جو بہتر پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔جنوبی پنجاب کے گرم علاقوں میں نیاب، فیصل آباد کی تل کی اقسام جون اور جولائی میں بھی کاشت کی جا سکتی ہیں۔