اسلام آباد ۔ 11 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ عدل و انصاف اور عالمی اصولوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے، جموں و کشمیر کے عوام 70 سال سے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے اس وعدے کے پورے ہونے کا انتظار کر رہے …
تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کےلئے بڑا چیلنج ہے ‘صدرآزاد جموں و کشمیر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ عدل و انصاف اور عالمی اصولوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے، جموں و کشمیر کے عوام 70 سال سے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے اس وعدے کے پورے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جو اس عالمی ادارے نے گزشتہ صدی کے وسط میں اپنی قراردادوں کی صورت میں ان سے کیا تھا۔ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے زیر اہتمام ماڈل یونائیٹڈنیشنز کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طلباءاور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے پیدائشی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کےلئے اپنا کردار ادا کریں جو اپنی ہی سرزمین پر بے وطن کر دیئے گئے اور جنہیں قابض بھارتی فوج آئے روز اپنا حق آزادی مانگنے کے جرم میں شہید، زخمی اور پوری زندگی کےلئے معذور بنا رہی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج عفت مآب ماﺅں اور بہنوں کی بے حرمتی کے علاوہ نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے محروم کر رہی ہے اور انسانیت کے خلاف ان گھناﺅنے جرائم کے باوجود بھارتی فوج کسی قانون یا عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں کیونکہ اسے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت جوابدہی کے خلاف تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری کشمیریوں کے حق پر ہونے اور اُن کی جدو جہد کو عدل و انصاف کے اُصولوں کے مطابق ہونے پر یقین رکھتا ہے لیکن میں آج یہاں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کا یہ یقین کافی نہیں ہے، پاکستان کے ہر فرد، ہر طالب علم، مرد اور عورت کو کشمیری کاز کےلئے اپنا وقت اور توانائی کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کےلئے جاری سیاسی و سفارتی مہم کو تیز تر کرنے کے وقف کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 70 سال پہلے دنیا کے انسانوں کے حق خود ارادیت کے تحفظ، ایک منصفانہ عالمی نظام اور انسانی حقوق کی حفاظت کےلئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن کشمیر سمیت دنیا کے کئی خطوں کے عوام کےلئے انسانی حقوق ، عدل و انصاف اور احترام انسانیت جیسے تصورات محض ایک خواب بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ نے دنیا کے مختلف ممالک میں معاشی اور سماجی ترقی کےلئے اہم کردار ادا کیا اور 73 سال میں کسی عالمی جنگ کو وقوع پذیر ہونے سے روکا لیکن اس کی نا کامیوں کی فہرست بھی بڑی طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام میں مرکزی حیثیت رکھنے والی اس تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ، عالمی امن و سلامتی اور بین الاقوامی قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانا تھا جس میں بدقسمتی سے وہ پوری طرح کامیاب نہیںہو ئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اقوام متحدہ آج بھی تنازعات اور بحرانوں میں گھری دنیا کےلئے امید کی ایک کرن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی انقلاب، ابلاغی انقلاب اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا تیزی سے سکٹر کر ایک گھر کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس تبدیلی نے دنیا کے انسانوں کی فکر و نظر کو بھی تبدیل کر دیا ہے اور انہیں اب ایک فرد یا ایک معاشرے یا ملک کے شہری کی حیثیت سے نہیں بلکہ عالمی شہری کی حیثیت سے کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہوں نے آئی بی کراچی کی انتظامیہ اور طلباءکی اُن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام اور اس کی طاقت اور کمزوریوں سے طلبہ کو آگاہ کرنے کی کوششوں کے اثرات نہ صرف کراچی اور پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں محسوس کئے جائیں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو تبدیل شدہ دنیا میں امن، ترقی اور انسانی حقوق کا چیمپئن بننے کےلئے تیار کرنا ہو گا تاکہ وہ مستقبل میں نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی معاشرے کے ذمہ دار شہری بن کر کثیر القطبی دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور دنیا کو درپیش مسائل کا حال تلاش کر سکیں۔








