تیزی سے بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں، سینیٹر محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں،اگر ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بنیادی چیلنجز سے موثر انداز میں نہ نمٹا تو ملک اپنی حقیقی ترقی کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گا،

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں،اگر ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بنیادی چیلنجز سے موثر انداز میں نہ نمٹا تو ملک اپنی حقیقی ترقی کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گا، وزیر خزانہ نے ان دونوں مسائل کو وجودی نوعیت کے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے نمٹنے کے لیے مستقل پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور طویل المدتی مالی وسائل ناگزیر ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آبادی 2026 کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششیں نیشنل پاپولیشن سٹیبلائزیشن پلان سے آگے بڑھ کر اب نیشنل پاپولیشن کونسل تک پہنچ چکی ہیں جس میں سول اور عسکری قیادت، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو موثر عملدرآمد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے اور کیوں ہے، اصل سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اسے کیسے اور کون حل کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل واضح اہداف، کلیدی کارکردگی اشاریوں اور باقاعدہ جائزے کے ذریعے نتائج یقینی بنائے گی۔انہوں نے وزارت صحت کو یقین دلایا کہ وزارت خزانہ اس سلسلے میں ہرممکن تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں عموماً مختصر مدتی ترجیحات کو سامنے رکھ کر بجٹ تیار کرتی ہیں لیکن آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی ایسے مسائل ہیں جن کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان دونوں وجودی چیلنجز پر قابو نہ پایا گیا تو 2047ء میں پاکستان کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے تک بھی ملک اپنی حقیقی صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے حالیہ وفاقی بجٹ میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اہم اقدامات کئے ہیں جن میں مانع حمل ادویات پر عائد سیلز ٹیکس کا خاتمہ اور دیگر ٹیکس اصلاحات شامل ہیں جس سے ان کی قیمتوں میں کمی آئے گی ، آبادی میں اضافے کی رفتار کو کم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور قلیل مدت میں بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں بالخصوص قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)ایوارڈ کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت صوبوں میں وسائل کی تقسیم میں آبادی کا وزن تقریباً 82 فیصد ہے جو مستقبل کے لیے پائیدار نہیں،مستقبل میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کےلئے اس معاملے پر سنجیدہ غور کیا جانا چاہئے۔ مالی وسائل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ صرف بجٹ پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال عالمی بینک کے ساتھ طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں آبادی کو تین بنیادی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے جس کے تحت تعلیمی پسماندگی خصوصاً سکول سے باہر بچیوں کی تعلیم اور بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت آبادی سے متعلق منصوبوں کے لیے سالانہ 600 سے 700 ملین امریکی ڈالر تک کی مالی معاونت دستیاب ہو گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی مہم بالخصوص ’’پیدائش میں وقفہ‘‘ کو سراہتے ہوئے اسے انتہائی موثرقرار د یا،انہوں نے کہا کہ عوامی شعور بیدار کرنے میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے کراچی کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زندگی ٹرسٹ کے زیر انتظام ایک گرلز سکول کا دورہ کیا جہاں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔وزیر خزانہ نے بنگلہ دیش، ایران اور انڈونیشیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے 10 سے 15 برس کے دوران بچیوں کی تعلیم، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور مذہبی رہنمائوں کے تعاون سے آبادی میں اضافے کی شرح کو تقریباً ایک فیصد تک محدود کرنے میں کامیابی حاصل کی، پاکستان کو بھی انہی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم نیشنل پاپولیشن کونسل کی قیادت میں حکومت ہر ممکن مالی، انتظامی اور پالیسی تعاون فراہم کرتی رہے گی تاکہ آبادی میں توازن کے قومی ہدف کو حاصل کیا جا سکے