وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات، صلاحیت اور تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے بدھ کو یہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی
وزیراعظم شہباز شریف کا موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات، صلاحیت اور تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے بدھ کو یہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے دنیا بھر میں پیچیدہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کی جانب سے انجام دی جانے والی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی معاونت پر او سی ایچ اے کا شکریہ ادا کیا اور ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں ادارے کے تعاون کو قابل قدر قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قومی اور صوبائی اداروں نے گزشتہ برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور تمام سطحوں پر باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ٹام فلیچر نے ملاقات پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان اور او سی ایچ اے کے درمیان گزشتہ برسوں سے جاری قریبی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پائیدار امن ہی جنگوں سے پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی بحرانوں سے موثر طور پر نمٹنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ملاقات کے دوران ٹام فلیچر نے وزیراعظم کو غزہ کی انسانی صورتحال اور وہاں امدادی سرگرمیوں کے دوران او سی ایچ اے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے او سی ایچ اے کی کوششوں میں پاکستان کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی انسانی تعاون کے فروغ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور متاثرہ و کمزور طبقات تک امداد کی بروقت فراہمی کے لئے اقوام متحدہ اور او سی ایچ اے کے ساتھ اپنا قریبی تعاون جاری رکھے گا۔








