"وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا، جبکہ سرمایہ کاری، برآمدات اور ٹیکس نظام میں شفافیت کے لیے اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔”
معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، رواں سال معاشی ترقی ،کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا ،وزیراعظم شہباز شریف کا ایف بی آر میں اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رواں سال کو معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کیلئے کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت بدھ کو ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انہیں زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے ۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ انہوں نے ایف بی آر کے سینئر افسروں کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ ہو اور ان کے مسائل بلاتاخیر حل ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا ، حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے۔ اجلاس کو ایف بی آر کی کارکردگی اور جاری اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس کے مطابق شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو ، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب ہو چکی ہے، ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ کے نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے ، گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری میں پروڈکشن مانیٹرنگ کے ذریعے 42 بلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا ہوا ، سیمنٹ انڈسٹری میں گزشتہ ایک سال کے دوران پروڈکشن مانیٹرنگ کے ذریعے 38 بلین روپے کا اضافی ٹیکس وصولی ہوئی ، گزشتہ ایک سال کے دوران بیوریجز انڈسٹری میں پروڈکشن مانیٹرنگ کے ذریعے 15 بلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا ہوا ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون ، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی برائے وزیراعظم ہارون اختر ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی







