تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز نہیں بھیجیں گے،آسٹریلوی وزیر

کینبرا۔16مارچ (اے پی پی):آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔ شنہوا کے مطابق یہ بات پیر کو آسٹریلیا کی وزیر برائے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، علاقائی ترقی اور بلدیاتی حکومت کیتھرین کنگ نے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی بحران سے …

کینبرا۔16مارچ (اے پی پی):آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔ شنہوا کے مطابق یہ بات پیر کو آسٹریلیا کی وزیر برائے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، علاقائی ترقی اور بلدیاتی حکومت کیتھرین کنگ نے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس خطے میں جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے پاس 37 دن کا پٹرول، 30 دن کا ڈیزل اور 29 دن کا جیٹ فیول موجود ہے۔ حکومت نے کم از کم ذخیرہ رکھنے کی پابندیوں میں نرمی اور عارضی طور پر ایندھن کے معیار میں تبدیلی کی ہے تاکہ زیادہ سلفر والے ایندھن کی اجازت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں مشرقِ وسطیٰ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہیں۔ دریں اثنا آسٹریلوی وفاقی حکومت نے ہفتے کو اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ بحرین، ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، فلسطین، قطر، شام، یمن اور متحدہ عرب امارات کا سفر (ٹرانزٹ) کرنے سے گریز کریں۔

وزارتِ خارجہ و تجارت کے مطابق ان ممالک کے لیے پہلے ہی سفری انتباہ جاری تھا، تاہم اب شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ممالک کے ہوائی اڈوں سے ٹرانزٹ بھی نہ کریں ۔ محکمے نے خبردار کیا کہ خطے میں جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور پروازیں اچانک تبدیل یا منسوخ بھی ہو سکتی ہیں۔

مزید خبریں