تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق 90 دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہو سکتی ، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت "تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق" اُس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے اور یہ کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت "تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق” اُس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے اور یہ کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری ، تفصیلی فیصلے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی سیول پٹیشن نمٹا دی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ آف سندھ کا 07 اکتوبر 2024 کا فیصلہ درست قرار پایا۔عدالت کے مطابق فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔ بیوی نے 03 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10 اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/آربیٹریشن کونسل نے طلاق کارروائی ختم کر دی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 7 میں استعمال ہونے والے الفاظ "طلاق کسی بھی صورت میں” اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ طلاقِ بدعت (تین طلاق بیک وقت) بھی اسی طریقہ کار کی پابند ہے اور 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے کوئی بھی طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی۔

فیصلے کے مطابق آرڈیننس کی دفعہ 8 یہ ضمانت دیتی ہے کہ جب بیوی کو حقِ طلاق تفویض ہو جائے تو اس پر وہی قانون لاگو ہو گا جو شوہر پر ہوتا ہےجس میں طلاق واپس لینے کا اختیار بھی شامل ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بیوی کی جانب سے بعد ازاں نیویارک کی عدالت میں کارروائی شروع کرنا پاکستان میں واپس لی گئی کارروائی کو متاثر نہیں کرتااور نہ ہی یونین کونسل یا ہائی کورٹ اس نکتہ پر کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی برقرار رکھا کہ شوہر کی طرف سے بعد میں دی گئی طلاق کا نوٹس دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر درست طور پر خارج کیا گیا کیونکہ اس وقت بیوی نیویارک میں مقیم تھی اور قانون کے مطابق پاکستانی مشن نیویارک ہی متعلقہ اتھارٹی تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق تھا جس پر پٹیشن خارج کر دی گئی۔

 

مزید خبریں