جاز کی قیادت میں پاکستان کا پہلا مقامی ایل ایل ایم شمولیتی ،اولین اقدام

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی ) کے اشتراک سے جاز ایک بڑے لینگویج ماڈل (ایل ایل ایم ) پر کام کر رہا ہے جو نجی شعبے کی قیادت میں شروع کیا گیا ایک انقلابی منصوبہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑے خلا،مقامی زبانوں میں اے آئی کے لیے موزوں ڈیٹا کی …

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی ) کے اشتراک سے جاز ایک بڑے لینگویج ماڈل (ایل ایل ایم ) پر کام کر رہا ہے جو نجی شعبے کی قیادت میں شروع کیا گیا ایک انقلابی منصوبہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑے خلا،مقامی زبانوں میں اے آئی کے لیے موزوں ڈیٹا کی کمی کو دور کرنا ہے۔

منصوبے کا موجودہ مرحلہ ڈیٹا اکٹھا کرنے، پراسیسنگ اور پری ٹریننگ پر مشتمل ہے اور اگلے مراحل میں فائن ٹوننگ، الائنمنٹ، ایویلیوایشن اور ڈیپلائمنٹ شامل ہوں گے جہاں مختلف صنعتوں، تعلیمی اداروں اور تحقیقی شعبوں کے شراکت دار اس قومی منصوبے میں کردار ادا کریں گے۔جاز اور نسٹ کے درمیان ایل ایل ایم منصوبے کے لیے شراکت داری کئی مشترکہ منصوبوں پر قائم دیرینہ تعاون کا تسلسل ہے۔ جاز کی وسعت، تکنیکی مہارت اور انڈسٹری کا تجربہ اور نسٹ کی تحقیقی صلاحیت اور تعلیمی وسعت انہیں ایک موزوں اسٹریٹجک شراکت دار بناتی ہے۔ این آئی ٹی بی کی پالیسی ہم آہنگی اور مشترکہ اسٹریٹجک اسٹیئرنگ کمیٹی کی نگرانی کے ساتھ جاز نے ایک ایسا فریم ورک قائم کیا ہے جو شفاف، جوابدہ اور قومی تقاضوں کے مطابق ہے۔

مزید برآں وزارت منصوبہ بندی کی اے آئی ٹاسک فورس کے رکن کے طور پر جاز نے ہمیشہ دیگر اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی اس کوشش میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور اس منصوبے کو قومی اے آئی اور ٹیکنالوجی کے مفاد میں ڈھالنے کے لیے پیش رفت جاری رکھی ہے۔جاز کا بنیادی نظریہ شمولیت اور تعاون پر مبنی ہے۔ 2024 میں جاز نے انڈسٹری اور تعلیمی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کے لیے اے آئی کوالیشن قائم کی اور گزشتہ ہفتے یونیسکو کے اشتراک سے “AI for Humanity: Ethical and Inclusive AI in Pakistan” ورکشاپ کا انعقاد کیا جہاں حکومت، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندوں نے مکالمے میں حصہ لیا۔ جاز شمولیت، تعاون اور تنوع کے عزم پر قائم ہے اور اس ابتدائی پروگرام کو اے آئی کی جدت کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم میں بدلنے کا خواہاں ہے جو ہر اس اسٹیک ہولڈر کے لیے کھلا ہوگا جو اس میں بامعنی شراکت دے سکے۔

جاز کا مقصد ہمیشہ واضح رہا ہے جو ٹیکنالوجی کی طاقت سے زندگیوں کو بدلنا اور پاکستان بھر میں روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانا ہے ۔ ملک کے پہلے مقامی ایل ایل ایم کی تیاری میں قیادت کرکے جاز نہ صرف ایک تکنیکی سنگ میل حاصل کر رہا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کے ایک ایسے مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے جو مقامی طور پر موزوں، اخلاقی اصولوں پر مبنی اور شمولیتی ہو۔ یہ اقدام اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی ترقی تعاون پر مبنی جدت پر منحصر ہے اور ہر وہ اسٹیک ہولڈر جو اس وژن پر یقین رکھتا ہے اس میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔