یونیورسٹی آف کمالیہ اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور نے اعلی تعلیم میں ڈیجیٹل تبدیلی و مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے مشترکہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصلاح کنسورشیم کے تحت "جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی ومصنوعی ذہانت کے لیے تیاری” کے موضوع پر بین الاقوامی آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا۔
جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی ومصنوعی ذہانت پر بین الاقوامی مکالمہ ،پاکستان، برطانیہ وملائیشیا ء کے وی سیز و مصنوعی ذہانت ماہرین کی شرکت

مزید خبریں
لاہور۔18جولائی (اے پی پی):یونیورسٹی آف کمالیہ اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور نے اعلی تعلیم میں ڈیجیٹل تبدیلی و مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے مشترکہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصلاح کنسورشیم کے تحت "جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی ومصنوعی ذہانت کے لیے تیاری” کے موضوع پر بین الاقوامی آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا۔ ترجمان کے مطابق اس علمی فورم میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، تھل یونیورسٹی بھکر اور غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان بھی شریک اداروں کے طور پر شامل ہوئیں، جبکہ پاکستان، برطانیہ اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کرتے ہوئے مستقبل کی جامعات کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔مکالمے کی قیادت وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری، وائس چانسلر گورنمنٹ کالج، لاہور پروفیسر ڈاکٹر عمر چوہدری، ڈاکٹر جان آرتھر، پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار، پروفیسر ڈاکٹر عاشق انجم، پروفیسر ڈاکٹر طارق زمان اور دیگر قومی و بین الاقوامی ماہرین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں جامعات کی کامیابی کا انحصار صرف جدید سافٹ ویئر یا چندتربیتی ورکشاپس پر نہیں بلکہ ایسی جامع حکمت عملی پر ہے جس میں نصاب،اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، طلبہ کی AI خواندگی، امتحانی نظام، اخلاقی اصول، ڈیٹا کے تحفظ اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو یکجا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف کمالیہ قومی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے جدید، تحقیق پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے مو ثر کردار ادا کر رہی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور تدریس، تحقیق اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں مصنوعی ذہانت کے مو ثر، محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ AI تدریسی مواد، طلبہ کی رہنمائی، فیڈبیک، ڈیٹا کے تجزیے اور انتظامی امور میں نمایاں سہولت فراہم کر سکتی ہے، تاہم AI سے تیار کردہ مواد کی تصدیق اور اس کی حتمی ذمہ داری ہمیشہ استاد یا متعلقہ افسر پر ہی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کو ایسے امتحانی اور تدریسی نظام متعارف کرانے چاہیں جو طلبہ کی اصل تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور مقامی تناظر پر مبنی علمی استعداد کو فروغ دیں۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت اب اعلی تعلیم کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے، تاہم اس کا استعمال شفافیت، اخلاقیات، معلومات کی تصدیق، رازداری اور انسانی جوابدہی کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ شرکاء نے کہا کہ طلبہ کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں AI کے استعمال کی وضاحت کرنی چاہیے، جبکہ جامعات حساس تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معلومات غیر منظور شدہ پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ ماہرین نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے درمیان مشترکہ لائسنسنگ، محفوظ ادارہ جاتی AI پلیٹ فارمز، مشترکہ کمپیوٹنگ سہولیات اور کم لاگت مقامی AI نظام کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ پاکستانی زبانوں، مقامی ڈیٹا اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ مصنوعی ذہانت کے نظام اور تحقیقاتی استعداد کو فروغ دینے کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔ مکالمے کے اختتام پر شرکاء نے اتفاق کیا کہ مستقبل کی کامیاب جامعات وہی ہوں گی جو مصنوعی ذہانت کو انسانی تخلیقی صلاحیت وعلمی فیصلوں کا متبادل بنانے کے بجائے ایک مو ثر معاون کے طور پر اپنائیں گی،اساتذہ، طلبہ اور ادارہ جاتی نظام کو ذمہ دارانہ، اخلاقی و مقامی تقاضوں سے ہم آہنگ AI کے استعمال کے لیے تیار کریں گی۔








