جدید دورکےتقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ جاتی نظام کےلیےتربیت، ٹیم ورک اور واضح سمت ناگزیر ہے، وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر تصور حیات

وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز) نے یونیورسٹی ملازمین کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ جاتی نظام کے لیے تربیت، ٹیم ورک اور واضح سمت ناگزیر ہیں

سرگودھا۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز) نے یونیورسٹی ملازمین کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ جاتی نظام کے لیے تربیت، ٹیم ورک اور واضح سمت ناگزیر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام بی ایس-16 اور بی ایس-17 کے افسران کے لیے حکومتی قواعد و ضوابط اور پالیسیوں سے متعلق دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے کہا کہ یونیورسٹی میں انسانی وسائل کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مؤثر تربیت، باہمی تعاون اور ادارے کی واضح ترجیحات کے ذریعے قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مثال دی اور کہا کہ ایک وقت تھا جب اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تدریس کے لیے مطلوبہ تعداد میں پی ایچ ڈی اساتذہ دستیاب نہیں تھے، تاہم انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دے کر اس خلا کو بڑی حد تک پورا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے ملازمین کے لیے ضروری ہےکہ وہ اپنےفرائض سےمتعلق قوانین، قواعد، سٹیچوٹس اور پالیسیوں کا ادراک رکھتے ہوں تاکہ ادارہ جاتی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کی جا سکیں ۔

اُنہوں نے یونیورسٹی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کو اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید مالی و انتظامی طریقہ کار، بشمول ڈبل انٹری اکاؤنٹنگ سسٹم، متعارف کرانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی تبدیلی کا عمل جہاں سے ممکن ہو، وہیں سے شروع کرنا ہوگا اور ٹیم ورک کے ذریعے اسے آگے بڑھانا ہوگا۔ڈائریکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر امجد حسین جنجوعہ نے بتایا کہ سنٹر اب تک 40 سے زائد تربیتی پروگرامز کے تحت 137 سے زائد تربیتی سیشنز منعقد کر چکا ہے، جن سے سینکڑوں فیکلٹی و سٹاف ممبران مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سنٹر کو ریجنل ٹریننگ حب بنانے، ہیومن ریسورس سرٹیفیکیشن پروگرامز شروع کرنے، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور اے آئی ریڈی یونیورسٹی ورک فورس کی تیاری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ورکشاپ کے پہلے روز دو سیشن منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن میں امجد حسین جنجوعہ نے یونیورسٹی آرڈیننسز، ایکٹ، سٹیچوٹس اور پالیسیز پر گفتگو کی، جبکہ دوسرے سیشن میں پرنسپل کالج آف لاء ڈاکٹر یاسرعلیم نے پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد و ضوابط پر تفصیلی لیکچر دیا۔افتتاحی سیشن کے اختتام پر امجد حسین جنجوعہ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔