جرمنی ، امتیازی سلوک کے خلاف نیا قانون متعارف

برلن ۔ 9 جون (اے پی پی) جرمنی کی ریاست اور دارلحکومت برلن میں امتیازی سلوک کے خلاف نیا قانون متعارف کردیا گیا ہے جس کے مطابق اب پولیس سمیت دیگر ارباب اختیار جلد کی رنگت، جنس اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نئے قانون کے بارے میںقانون دانوں کے خیال ہے کہ اس …

برلن ۔ 9 جون (اے پی پی) جرمنی کی ریاست اور دارلحکومت برلن میں امتیازی سلوک کے خلاف نیا قانون متعارف کردیا گیا ہے جس کے مطابق اب پولیس سمیت دیگر ارباب اختیار جلد کی رنگت، جنس اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نئے قانون کے بارے میںقانون دانوں کے خیال ہے کہ اس سے جرمنی میں ‘منظم نسل پرستی‘ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، ریاست برلن انسداد نسل پرستی کا اپنا قانون منظور کرنے والی جرمنی کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ اس قانون کی منظوری دئے دی ہے اس قانون کے مطابق واضح طور پر انتظامیہ جس میں پولیس اور سرکاری سکول شامل ہیںکو پابند بنایا جائے گا کہ وہ کسی بھی شہری کے ساتھ اس کے پس منظر، جلد کی رنگت، جنس، مذہب، ذہنی و جسمانی معذوری، دنیا کے بارے میں اس کے نقطہ نظر، عمر اور جنسی شناخت کی بنا پر امتیازی سلوک کا مظاہرہ نہیں کر سکتے اورساتھ ہی کسی کی تعلیم، تنخواہ اور اس کے پیشے اور دائمی بیماری کی وجہ سے بھی اس کے ساتھ فرق روا رکھنا جرم ہو گا اور اس کے علاوہ اگر کوئی جرمن زبان روانی سے نہیں بول پا رہا تو اس بنیاد پر بھی اسے نسل پرستانہ رویے کا نشانہ نہیں بنایا جا سکے گا۔