جرمن پارلیمنٹ کے رکن اور اس کی اقتصادی تعاون و ترقی کی کمیٹی کے رکن کرسٹوف شمڈ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ ترجمان بی آئی ایس پی کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ جرمنی کے ترقیاتی تعاون اور سماجی تحفظ کے شعبے میں اس کے عملی اثرات کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنا …
جرمن پارلیمانی وفد کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):جرمن پارلیمنٹ کے رکن اور اس کی اقتصادی تعاون و ترقی کی کمیٹی کے رکن کرسٹوف شمڈ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بدھ کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ ترجمان بی آئی ایس پی کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ جرمنی کے ترقیاتی تعاون اور سماجی تحفظ کے شعبے میں اس کے عملی اثرات کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنا ہے۔
دورے کا ایک اہم محور جرمنی کے تعاون سے چلنے والی موبائل رجسٹریشن گاڑیاں (ایم آر ویز) تھیں جن کے ذریعے جرمنی نے قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری (این ایس ای آر) کی رسائی کو وسعت دینے کے لیے بی آئی ایس پی کو 32 گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ ان کی تعیناتی کے بعد سے ایم آر ویز نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں 1.37 ملین سے زائد افراد تک رسائی حاصل کرکے ان کا اندراج کیا ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز نے وفد کا خیرمقدم کیا جس میں ڈاکٹر مینوئل ونکن باخ، ڈپٹی ہیڈ آف ڈویلپمنٹ کوآپریشن، جرمن سفارتخانہ اسلام آباد، ماریا-جوز پوڈے، کنٹری ڈائریکٹر، جی آئی زیڈ (GIZ) پاکستان، ٹلمن ناگل، ہیڈ آف یونٹ، جی آئی زیڈ اور یوہانا کنوس، پروجیکٹ ہیڈ، ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن، جی آئی زیڈ پاکستان شامل تھے۔
وفد نے جامع اور قابل رسائی سماجی تحفظ کے نظام کو آگے بڑھانے میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ڈی جی این ایس ای آر/سی سی ٹی بی آئی ایس پی ڈاکٹر عاصم اعجاز نے وفد کو بی آئی ایس پی کے اہم اقدامات اور پروگراموں کے بارے میں بریفنگ دی جن میں بینظیر کفالت، بینظیر نشوونما، بینظیر تعلیمی وظائف، نوعمر لڑکیوں کے لیے غذائیت، بینظیر ہنرمند پروگرام، موبائل رجسٹریشن گاڑیاں (ایم آر ویز)اور ڈیجیٹل والٹ اقدام شامل ہیں۔
وفد نے ایم آر ویز کے عملی استعمال کا مشاہدہ کیا۔جرمن وفد نے ڈیجیٹلائزیشن، موبائل رسائی اور جدید خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کے ذریعے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بی آئی ایس پی کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان میں جامع اور موثر سماجی تحفظ کی حمایت کے لیے مسلسل تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔







