لاہور۔11دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور کمیشن برائے انسانی حقوق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے میاں داد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ درخواست گزار وکلاء نے موقف …
جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

مزید خبریں
لاہور۔11دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور کمیشن برائے انسانی حقوق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے میاں داد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، رپورٹس کے مطابق 1100 سے زیادہ شہریوں کو مارے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ اعلی عدلیہ اپنے متعدد فیصلوں میں جعلی پولیس مقابلوں کو آئین و قانون کے منافی قرار دے چکی ہے، مگر پنجاب میں انہیں کریمنل جسٹس سسٹم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔وہاڑی میں ایڈووکیٹ ذیشان کا قتل جعلی پولیس مقابلوں کی ایک واضح اور افسوسناک مثال ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ جعلی مقابلوں کے تدارک کے لیے انسدادِ حراست ہلاکت ایکٹ2022 نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت ایف آئی اے ہر زیر حراست موت کی30 روز میں انکوائری کرنے کی پابند ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بھی اس قانون پر عملدرآمد کا حکم دے چکی ہے، تاہم نہ قانون پر عمل ہوا اور نہ ہی ایف آئی اے نے کسی ہلاکت کی انکوائری کی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ پنجاب میں جاری تمام پولیس مقابلوں کو فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کرے۔








