جنوبی ایشیا کے ممالک میں وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر آبادی کا بوجھ بہت زیادہ ہے ، افتخار علی ملک کا کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کو بڑی آبادی کے مسئلہ کا سامنا ہے، یہ آبادی ان ممالک کے بہت سارے وسائل ہڑپ کر رہی ہے۔ پیر کو یہاں ’’معیشت پر بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک گول میز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں …

اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کو بڑی آبادی کے مسئلہ کا سامنا ہے، یہ آبادی ان ممالک کے بہت سارے وسائل ہڑپ کر رہی ہے۔ پیر کو یہاں ’’معیشت پر بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک گول میز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں غربت کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور اسے کسی ایک عنصر سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر آبادی کا بوجھ بہت زیادہ ہے جس سے معاشی مواقع اور خوشحال زندگی کو یقینی بنانا انتہائی مشکل ہے۔ معیاری تعلیم کا فقدان بھی جنوبی ایشیا میں غربت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیم معاش کو بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرتی ہے تاہم یہاں بڑی آبادی کو سکولوں کی ناکافی عمارات، سکول چھوڑنے کی بلند شرح، صنفی تفاوت، اور پیشہ ورانہ تربیت کی کمی کا سامنا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بے روزگاری کی وجہ یہ بھی ہے کہ خطے کی اقتصادی ترقی بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کو سیاسی عدم استحکام اور اندرونی تنازعات کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، لوگ بے گھر ہوئے اور غربت کے خاتمے کی کوششوں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ یہاں زرعی پیداواری صلاحیت بہت کم ہے جس کی وجہ پرانے طریقوں سے کاشتکاری، قرضوں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطہ کمزور طرز حکمرانی، بدعنوانی، سماجی عدم مساوات، صنفی تفاوت، ذات پات اور نسلی تقسیم کے مسائل سے بھی دوچار ہے جس سے آبادی کے بعض گروہوں کے لیے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی آبادی اور غربت سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

 

مزید خبریں