پاکستان کوسندھ طاس معاہدے کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرنے چاہئیں، حنا ربانی کھر

پاکستان کوسندھ طاس معاہدے کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرنے چاہئیں، حنا ربانی کھر

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):سابق وزیر مملکت برائے خارجہ اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی چیئرپرسن حنا ربانی کھر نے زور دیا ہےکہ پاکستان کوسندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرنے چاہئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’معطل‘‘ قرار دینے کی کوشش بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سابق وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے احترام میں وسیع پیمانے پر آنے والی گراوٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو ملک عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہو، وہ بیک وقت قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدوں کو کیسے کمزور کر سکتا ہے؟انہوں نے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 12کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاہدے میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ توثیق شدہ معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے، لہٰذا اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر موثر قرار دینے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ معاہدہ بالکل واضح ہے۔

اسے محض سیاسی بیانات یا یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا خاتمہ صرف دونوں حکومتوں کی باقاعدہ توثیق شدہ رضامندی سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے موجودہ حالات میں معاہدے پر ازسرنو مذاکرات کے مطالبات سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک کسی موجودہ قانونی معاہدے کو اس وقت تک ترک نہیں کرتا جب تک دونوں فریق کسی متبادل معاہدے پر متفق نہ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے موقف کو ایک ایسے بکھرتے ہوئے عالمی نظام کی وجہ سے تقویت مل رہی ہے جہاں عالمی ادارے اور بین الاقوامی قانون کے روایتی محافظ، طے شدہ اصولوں پر موثر عملدرآمد کرانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بھارت کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے کیوں یقین ہے کہ وہ دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں سے ایک کی خلاف ورزی کرکے بھی بچ سکتا ہے۔

حنا ربانی کھر نے معاہدوں کے احترام کو عالمی مفاد قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر سندھ طاس معاہدے کا دفاع نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے پانی کا معاملہ ہے، کل کسی اور ملک کے مشترکہ وسائل کا ہو سکتا ہے۔ اگر ریاستوں کو یکطرفہ طور پر معاہدوں کو نظرانداز کرنے کی اجازت دے دی گئی تو بین الاقوامی معاہدوں کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔اپنے دور وزارت خارجہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس وقت بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور تجارت کے فروغ کے لیے کام کیا تھا، جب نئی دہلی مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام کے لیے نسبتاً زیادہ آمادہ تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بھارت اس طرز عمل سے ہٹ چکا ہے اور اب وہ بین الاقوامی قانونی فریم ورک سے باہر اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی مضبوطی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں بشمول 1971ء کی جنگ کے باوجود برقرار رہا، اس لیے آج اسے درپیش چیلنج مزید تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مکمل جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا کیونکہ دونوں ممالک اس کی قانونی حیثیت کا احترام کرتے تھے، یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ آج اسے جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے چیلنج کیا جا رہا ہے۔ حنا ربانی کھر نے اس مسئلے کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث دریائے سندھ کا طاس دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ حالات مشترکہ آبی وسائل پر تصادم کے بجائے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا تقاضا کرتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری خصوصاً یورپی ممالک جو ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے حامی رہے ہیں، پر زور دیا کہ وہ معاہدوں کی پاسداری اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے تحفظ کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر حنا ربانی کھر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ نہ صرف پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی ساکھ برقرار رکھنے اور عالمی معاہدوں کی اہمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

 

مزید خبریں