حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اب پاکستان کو معرکہ معیشت جیتنا ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کا ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء پر خطاب

حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اب پاکستان کو معرکہ معیشت جیتنا ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کا ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء پر خطاب

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں، اب پاکستان کو معرکہ معیشت جیتنا ہے، ملکی برآمدات کو اب ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وفاق اور صوبے مل کر سماجی شعبے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر آگے بڑھائیں گے ۔وہ منگل کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے خطاب کر رہے تھے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں معیشت اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھتی رہی تاہم عالمی حالات، تیل کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث شرح نمو 3.7 فیصد رہی جو اس کے باوجود گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین معاشی شرح نمو ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی بہتر کارکردگی نے معاشی استحکام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کے شعبے کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد نمو ریکارڈ کی جبکہ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں نے مثبت کارکردگی دکھائی۔ آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات، خوراک، مشروبات، تمباکو، معدنی مصنوعات اور گارمنٹس کے شعبوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور فریٹ چارجز بڑھنے کے باعث مہنگائی پر دبائو آیا تاہم حکومت نے قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاسوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی پر قابو پانے کا خصوصی ٹاسک دیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید کمی کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کے باعث جولائی تا مئی ترسیلات زر 9.2 فیصد اضافے سے 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔ خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر نے کرنٹ اکائونٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.7 فیصد زیادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ قربانی کے جانوروں کی تجارت میں بھی 3.5 فیصد اضافہ ہوا، مویشی منڈیوں، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، قصابوں اور لیدر انڈسٹری نے معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے، سماجی شعبے، سائنس و ٹیکنالوجی، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر خصوصی علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور منظور شدہ منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، موثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو 12.1 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے سب سے بڑا ترقیاتی چیلنج ہے، اس لیے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے مستقبل کی ضروریات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا حکومت کی ترجیح ہے کیونکہ خواتین کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور مالی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے بلوچستان کو علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، قابل تجدید توانائی، زراعت، ماہی گیری اور لاجسٹکس کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد-کراچی ایم-6 موٹر وے، چمن-کوئٹہ-کراچی شاہراہ اور سی پیک کے ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والے قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر قراقرم ہائی وے ٹو منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی رابطہ بلا تعطل جاری رہے۔ اسلام آباد میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوانٹم ویلی بھی قائم کی جائے گی۔اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ملک بھر کی جامعات کا جامع جائزہ لینے، مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ڈگری پروگرام متعارف کرانے اور سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، اس آڈٹ کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

مزید خبریں