جنوبی پنجاب میں سیلاب نے 25 فیصد فش فارمنگ کو متاثر کیا،ڈائریکٹر فشریز جنوبی پنجاب

ملتان۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران 25 فیصدفش فارمنگ کو نقصان پہنچا ہے، جس سے معیشت اور ماہی پروری کے شعبے پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ بات ڈائریکٹر فشریز جنوبی پنجاب ڈاکٹر ریاض الدین نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے قبل جنوبی پنجاب میں 2 ہزار 757 فش فارمز قائم تھے جن کا کل …

ملتان۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران 25 فیصدفش فارمنگ کو نقصان پہنچا ہے، جس سے معیشت اور ماہی پروری کے شعبے پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ بات ڈائریکٹر فشریز جنوبی پنجاب ڈاکٹر ریاض الدین نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے قبل جنوبی پنجاب میں 2 ہزار 757 فش فارمز قائم تھے جن کا کل رقبہ 38 ہزار 240 ایکڑ تھا۔ ان فارمز پر ہزاروں خاندان مچھلی کی افزائش اور فروخت کے ذریعے اپنا روزگار چلا رہے تھے۔تاہم حالیہ سیلاب نے اس شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ ضلع مظفرگڑھ میں 1081 میں سے 105 فش فارمز کو نقصان پہنچا جن کا مجموعی رقبہ 2251 ایکڑ ہے۔

خانیوال میں 303 فارمز میں سے 63 فارمز متاثر ہوئے جن کا رقبہ 5575 ایکڑ بنتا ہے، جبکہ ملتان میں 3 فارمز کے 75 ایکڑ علاقے کو نقصان پہنچا جو مجموعی طور پر 172 فارمز (3820 ایکڑ) میں شامل ہیں۔ڈاکٹر ریاض الدین نے بتایا کہ محکمہ فشریز پنجاب نے متاثرہ علاقوں کے تخمینے جمع کر لیے ہیں اور انہیں حکومت پنجاب کو بھجوا دیا گیا ہے۔ حکومت متاثرہ فش فارمز کی بحالی کے لیے ضلعی ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فش فارمرز کو سہولت دینے اور دوبارہ افزائش کے عمل کو بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔انہوں نےبتایا کہ فش فارمنگ سے متعلق آگاہی سیمینارز اور تربیتی ورکشاپس محکمہ فشریز کے پبلسٹی ونگ کے زیر اہتمام باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں تاکہ فارمرز کو جدید افزائشی طریقوں، مچھلی کی خوراک، بیماریوں سے بچاؤ اور مارکیٹ تک رسائی بارے رہنمائی دی جا سکے۔

ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر لاہور بھی مچھلی کی صحت، بیماریوں کی تشخیص اور جدید تحقیقی کاموں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ڈاکٹر ریاض الدین نے بتایا کہ مچھلی کے بیج کی سٹاکنگ مارچ اور اپریل تک مکمل کر لی جاتی ہے، جبکہ یہ نومبر سے جنوری تک تیار ہو جاتی ہے۔ ایک مکمل افزائشی سائیکل کو 7 سے 8 ماہ درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب حالات معمول پر آ چکے ہیں، سیلابی پانی واپس جا چکا ہے، آئندہ سال ہدف دوبارہ حاصل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ فشریز کی ٹیمیں مارکیٹوں میں مچھلی کے معیار کی جانچ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے بھی باقاعدگی سے کارروائیاں کرتی ہیں۔ غیر قانونی مچھلی پکڑنے والوں کے خلاف چالان اور ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں تاکہ دریاؤں اور آبی حیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر ریاض الدین نے کہا کہ محکمہ فشریز جنوبی پنجاب میں فش فارمنگ کی بحالی، متاثرہ کسانوں کی مدد اور پائیدار مچھلی افزائش کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔