جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں نصب سولر پاور سسٹم کے تکنیکی آڈٹ اور معائنے میں سنگین بے ضابطگیوں اور حقائق چھپانے کا انکشاف

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں نصب 82 کلو واٹ ہائبرڈ سولر پاور سسٹم کے تکنیکی آڈٹ اور معائنے میں سنگین بے ضابطگیوں اور حقائق چھپانے کا انکشاف ہواہے۔

پشاور۔ 10 جون (اے پی پی):خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں نصب 82 کلو واٹ ہائبرڈ سولر پاور سسٹم کے تکنیکی آڈٹ اور معائنے میں سنگین بے ضابطگیوں اور حقائق چھپانے کا انکشاف ہواہے۔

یہ انکشاف اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے سیکرٹری انرجی اینڈ پاور کو ارسال کیے گئے ایک مراسلے میں کیا گیا ہے، جس کی نقول چیف سیکرٹری اور محکمہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کو بھی کارروائی کے لیے بھجوائی گئی ہیں۔خط میں صوبائی محکمہ توانائی کے معائنہ کاروں کی کارکردگی اور دیانت داری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر سولر سسٹم کا آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ نہ کرایا گیا تو معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔دستاویزات کے مطابق پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے سولرائزیشن منصوبے کے تحت جوڈیشل اکیڈمی میں 82 کلو واٹ کا سولر پاور سسٹم نصب کیا گیا تھا۔ اس سسٹم کا تکنیکی معائنہ 12 فروری 2026 کو ڈپٹی الیکٹرک انسپکٹر اور ان کی ٹیم نے کیا، جس کے دوران اکیڈمی کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر بھی ان کے ہمراہ موجود تھےدستاویزات کے مطابق معائنے کے دوران سسٹم میں متعدد تکنیکی نقائص اور سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں ناقص ارتھنگ، انورٹر کی تنصیب اور کارکردگی میں خرابیاں، برقی حفاظتی اقدامات کی کمی، حفاظتی آلات کی عدم موجودگی، کیبل مینجمنٹ کی خراب صورتحال اور متعلقہ حفاظتی معیارات کی کھلی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی عدالتی تربیت کا ایک اہم ادارہ ہے، اس لیے ڈیزائن اور تنصیب میں موجود ایسی سنگین خامیاں نہ صرف عوامی وسائل کو مالی اور آپریشنل نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ انسانی جانوں اور املاک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔خط میں صوبائی محکمہ توانائی کے افسران کے رویے پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔ اکیڈمی کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی الیکٹرک انسپکٹر نے ہوسٹل عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پینلز اور متعلقہ تنصیبات کا معائنہ ہی نہیں کیا۔ مبینہ طور پر انہوں نے یہ کہہ کر معائنہ مکمل کرنے سے گریز کیا کہ جو خامیاں نیچے پائی گئی ہیں غالب امکان ہے کہ وہی خامیاں پوری تنصیب میں بھی موجود ہوں گی۔اس طرح سولر سسٹم کا ایک بڑا حصہ عملی جانچ اور ٹیسٹنگ کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔مراسلے میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ادھورے معائنے کے باوجود جو فائنل انسپکشن رپورٹ اکیڈمی کو موصول ہوئی، اس میں نہ موقع پر سامنے آنے والی سنگین خامیوں کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی نامکمل معائنے کی حقیقت کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔اس کے برعکس متعلقہ محکمہ نے بغیر کسی تحفظ یا شرط کے اس تنصیب کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کلین چٹ جاری کر دی۔جوڈیشل اکیڈمی نے اس عمل کو مادی حقائق چھپانے اور گمراہ کن رپورٹ جاری کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے محکمہ کی تفتیشی ساکھ، شفافیت اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔اکیڈمی نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی آزاد اور غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ادارے سے سولر پاور سسٹم کا فوری اور جامع تکنیکی آڈٹ کرایا جائے، جس کا اس منصوبے کی منصوبہ بندی، نگرانی یا سرٹیفیکیشن میں پہلے کوئی کردار نہ رہا ہو۔ آڈٹ کے دوران ارتھنگ، الیکٹریکل پروٹیکشن، انورٹر کی کارکردگی اور مجموعی حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔اس کے علاوہ 12 فروری 2026 کی انسپکشن رپورٹ میں حقائق چھپانے اور ادھورے معائنے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اکیڈمی نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں اس کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے دستیاب ہیں۔مراسلے کے اختتام پر صوبائی حکومت کو 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر آزاد ادارے سے دوبارہ معائنہ نہ کرایا گیا تو معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اس صورت میں مستقبل میں سامنے آنے والے کسی بھی نقص، حادثے، غلط رپورٹنگ یا حقائق چھپانے کی تمام قانونی اور مالی ذمہ داری متعلقہ انسپکشن اتھارٹی اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے افسران پر عائد ہوگی، کیونکہ عوامی فنڈز کے تحفظ اور انسانی جانوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔جوڈیشل اکیڈمی نے اس مراسلے کی نقول چیف سیکرٹری کے علاوہ محکمہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا کو بھی کارروائی کےلئے ارسال کر دی ہیں۔

مزید خبریں