اسلام آباد میں تقریباً 10 ارب روپے لاگت کے پارک روڈ انفراسٹرکچر منصوبے پر کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے، محمد طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ محمد طلال چوہدری نے سینیٹ کو آگاہ کیاہے کہ اسلام آباد میں تقریباً 10 ارب روپے لاگت کے پارک روڈ انفراسٹرکچر منصوبے پر کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور اس کا پہلا مرحلہ جولائی میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ محمد طلال چوہدری نے سینیٹ کو آگاہ کیاہے کہ اسلام آباد میں تقریباً 10 ارب روپے لاگت کے پارک روڈ انفراسٹرکچر منصوبے پر کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور اس کا پہلا مرحلہ جولائی میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

بدھ کو سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پارک روڈ انڈر پاس منصوبے کی تکمیل میں مبینہ تاخیر کے حوالے سے پیش کیے گئے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے پر کام مارچ میں شروع ہوا تھا اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں انڈر پاس، اوور ہیڈ سٹرکچر، سروس روڈز اور دیگر سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے جس کا مقصد علاقے کے مکینوں کے لیے ٹریفک کی روانی اور رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ منصوبے کا پہلا مرحلہ جس میں انڈر پاس شامل ہے، جولائی میں مکمل ہو جائے گا جبکہ منصوبے کا باقی حصہ اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ ڈی ایچ اے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے جو اس کی مالی ضروریات کا انتظام بھی کر رہی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے پارک روڈ، مارگلہ ایونیو اور ملحقہ علاقوں کے درمیان آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی جس سے دارالحکومت کے پرانے اور نئے آباد علاقوں میں رہنے والی بڑی آبادی مستفید ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام کے دوران شہریوں کو عارضی مشکلات کا سامنا ہے تاہم منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ٹریفک جام میں کمی، سفر کے دورانیے میں کمی اور ایندھن کی بچت جیسے طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔

طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ منصوبے کے آغاز سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا، جیسا کہ اسلام آباد کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں معمول کے مطابق کیا جاتا ہے اور سبزہ زاروں پر ممکنہ اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 ارب روپے مالیت کا یہ منصوبہ کئی کلومیٹر طویل سڑکوں، ایک انڈر پاس اور اوور ہیڈ انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے جو وفاقی دارالحکومت میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے۔