سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر زیر حراست ملزم کی بیماری ایسی ہو جس کا جیل میں مناسب علاج ممکن نہ ہو اور اسے خصوصی طبی علاج و نگرانی درکار ہو تو مسلسل حراست اس کی صحت اور زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں طبی بنیادوں پر بعد از گرفتاری ضمانت دی جا سکتی ہے
جیل میں مطلوبہ خصوصی علاج ممکن نہ ہو تو طبی بنیادوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر زیر حراست ملزم کی بیماری ایسی ہو جس کا جیل میں مناسب علاج ممکن نہ ہو اور اسے خصوصی طبی علاج و نگرانی درکار ہو تو مسلسل حراست اس کی صحت اور زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں طبی بنیادوں پر بعد از گرفتاری ضمانت دی جا سکتی ہے۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ذیشان مجید بھٹی کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں دونوں مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا کہ سینٹرل جیل راولپنڈی کے میڈیکل آفیسر کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم سنگین بیماریوں میں مبتلا ہے اور اسے جیل ہسپتال میں مطلوبہ خصوصی علاج میسر نہیں۔ ملزم کو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کے عوارض سمیت سینے میں درد کی شکایت ہے جبکہ ماہرین امراض قلب نے خصوصی طبی معائنے اور علاج کی سفارش کی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی بیماریوں کے لیے خصوصی علاج اور مسلسل طبی نگرانی درکار ہے جو جیل حکام کے لیے ممکن نہیں۔ خصوصی علاج کے بغیر مسلسل حراست ملزم کی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ اس کی زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔عدالت نے طبی بنیادوں پر ضمانت سے متعلق اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیماری کا مناسب علاج جیل میں ممکن نہ ہو، خصوصی علاج درکار ہو اور مسلسل حراست ملزم کی صحت یا زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو تو بعد از گرفتاری ضمانت دی جا سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے دونوں درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور ذیشان مجید بھٹی کو ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں درج دونوں مقدمات میں پانچ، پانچ لاکھ روپے کے الگ الگ زر ضمانت اور اتنی ہی مالیت کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔







