اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):جی ایس ایم اے نے جمعرا ت کو ڈیجیٹل نیشن سمٹ کے دوسرے ایڈیشن کی میزبانی کی جس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ملک کے موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی ملک کے ڈیجیٹل نظام کو آگے بڑھانے کے لئے کی جانے والی انتھک کوششوں اور خدمات کو سراہا گیا۔سمٹ کے دوران جی ایس ایم اے نے ایک نئی …
جی ایس ایم اے کے زیر اہتمام ڈیجیٹل نیشن سمٹ کا انعقاد ، وزارت آئی ٹی ، پی ٹی اے اور موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی ڈیجیٹل نظام کو آگے بڑھانے کیلئے انتھک کوششوں اور خدمات کی تعریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):جی ایس ایم اے نے جمعرا ت کو ڈیجیٹل نیشن سمٹ کے دوسرے ایڈیشن کی میزبانی کی جس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ملک کے موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی ملک کے ڈیجیٹل نظام کو آگے بڑھانے کے لئے کی جانے والی انتھک کوششوں اور خدمات کو سراہا گیا۔سمٹ کے دوران جی ایس ایم اے نے ایک نئی رپورٹ شائع کی جس کا عنوان "پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت کا ادراک: اصلاحات، اعتماد اور مواقع”تھا ۔ اس رپورٹ میں ان پالیسی مواقع کو اجاگر کیا گیا ہے جن کی مدد سے پاکستان ایشیا پیسفک کے سب سے بڑے موبائل انٹرنیٹ استعمال کے فرق کو کم کر سکتا ہے اور خود کو ایک علاقائی ڈیجیٹل رہنما کے طور پر منوا سکتا ہے۔اسلام آباد میں جی ایس ایم اے کے ڈیجیٹل نیشن سمٹ میں اہم پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسفک، جولین گورمین نے رپورٹ کے اہم نتائج اور سفارشات پیش کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح موبائل ٹیکنالوجیز اور سروسز ایشیائی معیشتوں کو تبدیل کر رہی ہیں اور 2030 تک خطے کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مزید 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا حصہ ڈال سکتی ہیں تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستان اس موقع سے محروم رہ سکتا ہےاگرچہ ملک کی 81 فیصد آبادی موبائل براڈبینڈ کی کوریج میں ہے اور 68 فیصد سمارٹ فون رکھتے ہیں لیکن گزشتہ سال صرف 29 فیصد افراد نے موبائل انٹرنیٹ استعمال کیا جس سے 52فیصدا ستعمال کا خلا ءرہ گیا جو بڑے علاقائی بازاروں میں سب سے زیادہ ہے۔ ہیڈ آف ایشیا پیسفک جی ایس ایم اے جولین گورمین نے کہاکہ پاکستان کے پاس ڈیجیٹل طاقت بننے کی صلاحیت، جذبہ اور وژن موجود ہے مگر پالیسی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔ اعلیٰ سپیکٹرم قیمتیں، شعبہ جاتی بھاری ٹیکسز اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کو محدود کر رہی ہیں جبکہ پاکستان کو اس وقت سستی اور معیاری کنکٹیویٹی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اصلاحات اب اختیار کی بات نہیں یہ معاشی ترقی، سماجی شمولیت اور عالمی مسابقت کے لئے ناگزیر ہیں۔








