حالیہ سیلابی صورتحال بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع کے پانی چھوڑنے کی وجہ سے ہے ،وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو

اوکاڑہ۔ 07 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلابی صورتحال بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع کے پانی چھوڑنے کی وجہ سے ہے جو کہ انٹرنیشنل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بھارت کا رویہ غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہے وزارت آبی وسائل سیلاب سے متاثرہ افراد کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ وفاقی وزیر آبی وسائل میاں …

اوکاڑہ۔ 07 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلابی صورتحال بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع کے پانی چھوڑنے کی وجہ سے ہے جو کہ انٹرنیشنل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بھارت کا رویہ غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہے وزارت آبی وسائل سیلاب سے متاثرہ افراد کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔

وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین خان وٹو کا نے دریائے ستلج کے اطراف سیلابی صورتحال اور حکومتی انتظامی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سیلابی صورتحال اور نقصان کا ذمہ دار انڈیا ہے کیونکہ انٹرنیشنل قوانین کے مطابق کسی بھی دوسرے ملک پانی چھوڑنے سے قبل انٹر فلڈ کمیشن کو اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے لیکن بھارت غیر جمہوری اور غیر اخلاقی رویہ اپناتے ہوئے ان قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے دراصل بھارت حالیہ مختصر جنگ میں ناکامی پر خفگی مٹانے کے لیے یہ احوچھے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے۔

میاں معین وٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزارت آبی وسائل سیلاب سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے ان کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے کسانوں کی فصلوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے آئندہ مون سون سے قبل سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزارت آبی وسائل باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے

دریاوں کنارے آباد ہونے اور گھر تعمیر کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے بھی ٹھوس حکمت عملی کے تحت کام کیا جائے گا دریاوں کے بند پشتوں کو بھی اگلے چند ماہ میں مزید مضبوط کر لیا جائے گا اسکے ساتھ ساتھ سیلابی پانی کی سٹوریج۔ڈیمز کی تعمیر اور درخت لگانے کے عمل سے اس کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے گراس روٹ لیول سے تجاویز بھی لی جا رہی ہیں۔