اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ حضور اکرم کی شان مبارک میں گستاخی کسی صورت قابل قبول نہیں، تمام اسلامی ممالک ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت مشترکہ مطالبات عالمی فورمز پر رکھیں تاکہ مستقبل میں ایسے دل آزار واقعات کا تدارک کیا جا سکے، ہمیں بحیثیت قوم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور …
حضور اکرم کی شان مبارک میں گستاخی کسی صورت قابل قبول نہیں، خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کا ہفتہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے عظمت مصطفیٰ کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ حضور اکرم کی شان مبارک میں گستاخی کسی صورت قابل قبول نہیں، تمام اسلامی ممالک ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت مشترکہ مطالبات عالمی فورمز پر رکھیں تاکہ مستقبل میں ایسے دل آزار واقعات کا تدارک کیا جا سکے، ہمیں بحیثیت قوم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور جائیداد میں انہیں حصہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ہفتہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے عظمت مصطفیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ حضور اکرم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، آپ نے آج سے تقریباً 1400 سال پہلے خطبہ حجة الوداع میں انسانی حقوق کا پہلا چارٹر پیش کیا، جہالت کے اندھیرے، ظلم و عدوان اور استحصال کا پردہ حضور پاک کی ذاتِ پاک کی برکت سے چاک ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دور جاہلیت میں انسانی برابری، وقار اور احساس کی بنیاد پر انسانی حقوق دینا اسلام کی حقانیت کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنے قول و فعل سے مساوات اور عدل و انصاف پر مبنی ایک مثالی انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی، اسلام سے پہلے معاشرے میں خواتین کو حقوق حاصل نہیں تھے، اسلام نے خواتین کو عزت و وقار کا مرتبہ دیا اور انہیں قانونی اعتبار سے معاشرے کے برابر رکن کی حیثیت سے حقوق فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین کو وراثت میں ان کا حصہ نہیں دیا جاتا، قرآن اور شریعت میں خواتین کا ایک مقررہ حصہ ہے اور کوئی بھی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا، ہمیں بحیثیتِ قوم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور جائیداد میں انہیں حصہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند سالوں میں یورپ میں حضور اکرم کی اہانت کے قابلِ مذمت واقعات ہوئے، مسلمانوں کی دل آزاری کو آزادیِ اظہار کا نام دیا جاتا ہے، حضور اکرم مسلمانوں کیلئے صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ہمارے جان و مال، عزت و آبرو سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک آزادیِ اظہار اور تنقید کی آڑ میں حضور اکرم کی ذاتِ مبارک سے وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا حضور اکرم کی تعلیماتِ مبارکہ سے کوئی واسطہ نہیں، حضور پاک کی شانِ مبارک میں گستاخی کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت مشترکہ مطالبات عالمی فورمز پر رکھیں تاکہ مستقبل میں ایسے دل آزار واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔ بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ اسلام کا حقیقی پیغام اجاگر کرنے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام اجاگر کیا جائے۔









